Surah Al Baqarah Ayat 152 (2:152)
The Cow · Juz 2 · Madani
فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ 152
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو تم مجھے یاد کرو ،میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکرادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو۔
Tafseer (Urdu)
{فاذكرونی: تو تم میری یاد کرو۔} کائنات کی سب سے بڑی نعمت حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا ذکر کرنے کے بعد اب ذکر الہی اور نعمت الہی پر شکر کرنے کا فرمایا جارہا ہے۔ ذکر کی ا قسام: ذکر تین طرح کا ہوتا ہے: (۱)زبانی ۔(۲)قلبی۔(۳) اعضاء بدن کے ساتھ ۔زبانی ذکر میں تسبیح و تقدیس حمدوثناءتوبہ واستغفار خطبہ و دعا اور نیکی کی دعوت وغیرہ شامل ہیں۔قلبی ذکر میں اللہ تعالی کی نعمتوں کو یاد کرنا اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی عظیم قدرت کے دلائل میں غور کرناداخل ہے نیز علماء کاشرعی مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔ اعضاء بدن کے ذکر سے مراد ہے کہ اپنے اعضاء سے اللہ تعالی کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ اعضاء کو اطاعت الہی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔(صاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۱۵۲ ۱ / ۱۲۸) ذکر کے فضائل: بکثر ت احادیث میں اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ان میں سے 10 احادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ (1)…اللہ کا ذکرایمان کامل کی نشانی ہے۔ (مسند امام احمد مسند الانصار حدیث معاذ بن جبل ۸ / ۲۶۶ الحدیث: ۲۲۱۹۱) (2)…ذکراللہ دنیا و اخرت کی ہر بھلائی پانے کا ذریعہ ہے۔(مشکاۃ المصابیح کتاب الصلاۃ باب القصد فی العمل الفصل الثانی ۱ / ۲۴۵ الحدیث: ۱۲۵۰) (3)…ذکر الہی عذاب الہی سے نجات دلانے والا ہے۔(موطا امام مالک کتاب القران باب ما جاء فی ذکر اللہ تبارک وتعالی ۱ / ۲۰۰ الحدیث: ۵۰۱) (4)…ذکر کرنے والے قیامت کے دن بلند درجے میں ہوں گے۔(شرح السنہ کتاب الدعوات باب فضل ذکر اللہ عزوجل ومجالس الذکر ۳ / ۶۷ الحدیث: ۱۲۳۹) (5)…ذکر کے حلقے جنت کی کیاریاں ہیں۔(ترمذی کتاب الدعوات ۸۲-باب ۵ / ۳۰۴ الحدیث: ۳۵۲۱) (6)…ذکر کرنے والوں کوفرشتے گھیر لیتے اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔(ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء فی القوم یجلسون۔۔۔ الخ ۵ / ۲۴۶ الحدیث: ۳۳۸۹) (7)… شب قدر میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو حضرت جبرئیل علیہ السلام دعائیں دیتے ہیں۔( شعب الایمان الباب الثالث والعشرون فی لیلۃ العید ویومہما ۳ / ۳۴۳ الحدیث: ۳۷۱۷) (8)…ذکر کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔(مسند امام احمد مسند المکثرین من الصحابۃ مسند ابی ہریرۃ ۳ / ۵۶ الحدیث: ۷۴۲۸) (9)… اللہ کا ذکر کرنے سے شیطان دل سے ہٹ جاتا ہے۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ قل اعوذ برب الناس ۳ / ۳۹۵) (10)…اللہ کے ذکر سے دل کی صفائی ہوتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح کتاب الدعوات باب ذکر اللہ عزوجل والقرب الیہ الفصل الثالث ۱ / ۴۲۷ الحدیث: ۲۲۸۶) {اذكركم: میں تمہیں یاد کروں گا۔} اللہ تعالی اطاعت سے یاد کرنے والوں کو اپنی مغفرت کے ساتھ شکر کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنی نعمت کے ساتھ محبت کے ساتھ یاد کرنے والوں کواپنے قرب کے ساتھ یاد فرماتا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلا ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں ا سے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں گز بھراس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھو ں کے پھیلاو کے برابر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف اتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں (یعنی جیسے اللہ کی شایان شان ہے یا مراد یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس کی طرف زیادہ تیزی سے متوجہ ہوتی ہے۔)(بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی: ویحذرکم اللہ نفسہ ۴ / ۵۴۱ الحدیث: ۷۴۰۵) {و اشكروا لی: اور میرا شکر کرو۔} جب کفرکا لفظ شکر کے مقابلے میں ائے تو اس کا معنی نا شکری اور جب اسلام یا ایمان کے مقابل ہو تو اس کا معنی بے ایمانی ہوتا ہے۔ یہاں ایت میں کفرسے مراد ناشکری ہے۔ شکر کی تعریف : شکر کا مطلب ہے کہ کسی کے احسان و نعمت کی وجہ سے زبان دل یا اعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کی جائے۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی :یااللہ! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں کہ میرا شکر کرنا بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: جب تو نے یہ جان لیا کہ ہرنعمت میری طرف سے ہے اور اس پر راضی رہا تو یہ شکر ادا کرنا ہے۔ (احیاء علوم الدین کتاب الصبر والشکر الشطر الثانی بیان طریق کشف الغطاء ۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۵) شکر کے فضائل اور ناشکری کی مذمت: قران و حدیث میں شکر کے کثیر فضائل بیان کئے گئے اور ناشکری کی مذمت کی گئی ہے چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’لىن شكرتم لازیدنكم و لىن كفرتم ان عذابی لشدید‘‘(ابراہیم: ۷) ترجمہ کنزالعرفان:اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللہ تعالی اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے: ’’الحمد للہ‘‘ تو یہ کلمہ اللہ تعالی کے نزدیک اسے نعمت دینے سے بہتر ہوتا ہے۔ (ابن ماجہ کتاب الادب باب فضل الحامدین ۴ / ۲۵۰ الحدیث: ۳۸۰۵) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالی جب کسی قوم سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمر دراز کرتا ہے اور انہیں شکر کا الہام فرماتا ہے۔(فردوس الاخبار باب الالف جماع الفصول منہ فی معانی شتی۔۔۔ الخ ۱ / ۱۴۸ الحدیث: ۹۵۴) حضرت کعب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :اللہ تعالی دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالی کے لئے شکر ادا کرے اور ا س نعمت کی وجہ سے اللہ تعالی کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالی اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے اخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالی نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالی کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالی دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے پھر اگر اللہ تعالی چاہے گا تو اسے (اخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔(رسائل ابن ابی الدنیا التواضع والخمول ۳ / ۵۵۵ رقم: ۹۳) شکر سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے سورہ ابراہیم کی ایت نمبر7کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔