Surah Al Baqarah Ayat 174 (2:174)
The Cow · Juz 2 · Madani
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًاۙ-اُولٰٓىٕكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْۖ-ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ 174
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ لوگ جو اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے ذلیل قیمت لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو چھپاتے ہیں اللہ کی اتاری کتاب اور اس کے بدلے ذلیل قیمت لے لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین یكتمون ما انزل الله من الكتب: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں۔} کافروں کے ایک گروہ مشرکین کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اب دوسرے گروہ یعنی یہودیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ پہلا گروہ اللہ تعالی کے حق میں کوتاہی کرنے والا تھا اور دوسرا گروہ مصطفی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حق میں کوتاہی کرنے والا ہے۔ شان نزول: یہودیوں کے سردار اورعلماء یہ امید رکھتے تھے کہ نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان میں سے مبعوث ہوں گے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ سرکار دو عالم محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم دوسری قوم میں سے مبعوث فرمائے گئے تو انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ توریت و انجیل میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف دیکھ کر آپ کی فرمانبرداری کی طرف جھک پڑیں گے اور ان یہودی سرداروں اور علماء کے نذرانے ہدیئے تحفے تحائف سب بند ہوجائیں گے حکومت جاتی رہے گی تو اس خیال سے انہیں حسد پیدا ہوا اور توریت و انجیل میں جو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نعت و صفت اور آپ کے وقت نبوت کا بیان تھا انہوں نے اس کو چھپا دیا۔ اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۷۳ ۱ / ۱۱۳) یہودیوں کے اس طرح کے طرز عمل پر فرمادیا گیا کہ ذاتی مفادات مال دنیا اور عیش و ارام کی خاطر اللہ تعالی کی کتاب اور اس کے احکام عظمت و شان مصطفوی صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم چھپانے والے مال ودولت سے اپنے خزانے نہیں بھر رہے بلکہ حقیقت میں اپنے پیٹ میں جہنم کی اگ بھر رہے ہیں کہ یہ حرکات انہیں جہنم میں لے جانے کا سبب ہوں گی قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالی سے ہم کلامی کے شرف سے محروم ہوں گے رحمت الہی ان سے دور ہوگی کفر و معصیت کی گندگی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور انہیں کسی بھی طرح گناہوں سے پاک نہیں کیا جائے گا بلکہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ یاد رہے کہ چھپانا یہ بھی ہے کہ کتاب کے مضمون پر کسی کو مطلع نہ ہونے دیا جائے نہ وہ کسی کو پڑھ کر سنایا جائے اورنہ دکھایا جائے اور یہ بھی چھپانا ہے کہ غلط تاویلیں کرکے معنی بدلنے کی کوشش کی جائے اور کتاب کے اصل معنی پر پردہ ڈالا جائے۔ یہودی ہرطرح کی تاویلیں کرتے تھے اور ابھی تک بہت سے لوگوں میں اس طرح کا طرز عمل جاری ہے قران پڑھ کر توحید الہی کی غلط تشریح کرنا عظمت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی ایات کو چھپانا ان کے معانی بدلناپردے اور سود وغیرہ کے متعلق ایات کے معانی میں تحریف کرنا سب اسی فعل حرام میں داخل ہیں۔