Surah Al Baqarah Ayat 173 (2:173)
The Cow · Juz 2 · Madani
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِۚ-فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ 173
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور حرام کئے ہیں جس کے ذبح کے وقت غیرُ اللہ کا نام بلند کیا گیا تو جو مجبور ہوجائے حالانکہ وہ نہ خواہش رکھنے والا ہو اور نہ ضرورت سے آگے بڑھنے والاہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ،بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس نے یہی تم پر حرام کئے ہیں مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر خدا کا نام لے کر ذبح کیا گیا تو جو نا چار ہو نہ یوں کہ خواہش سے کھائے اور نہ یوں کہ ضرورت سے آگے بڑھے تو اس پر گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{انما حرم علیكم: تم پر یہی حرام کئے۔ }کفار نے چونکہ اپنی طرف سے بہت سے جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا جن کا بیان سورہ مائدہ ایت 103میں ائے گا۔ کفار کی اس حرکت پر فرمایا گیا کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے جیسے بحیرہ وغیرہ وہ حرام نہیں حرام صرف وہ ہیں جو ہم نے فرمادئیے۔یہی مضمون مزید تفصیل کے ساتھ سورہ مائدہ ایت 3 میں بھی موجود ہے۔ اللہ تعالی کی حرام کردہ چار چیزوں کی تفصیل: یہاں ایت میں چار چیزوں کا بیان ہے: (۱)مردار (۲)خون (۳)خنزیر کا گوشت (۴)غیراللہ کے نام پر ذبح کیا جانے والا جانور۔ ان کی تفصیل یہ ہے : (1)…مردار:جو حلال جانور بغیر ذبح کئے مرجائے یا اس کو شرعی طریقے کے خلاف مارا گیا ہو مثلا مسلمان اور کتابی کے علاوہ کسی نے ذبح کیا ہو یا جان بوجھ کر تکبیر پڑھے بغیر ذبح کیا گیا ہو یا گلا گھونٹ کر یا لاٹھی پتھر ڈھیلے غلیل کی گولی سے مار کر ہلاک کیا گیا ہو یاوہ بلندی سے گر کر مر گیا ہو یا کسی جانور نے اسے سینگ مارکر مار دیا ہو یا کسی درندے نے ہلاک کیا ہو اسے مردار کہتے ہیں اور اس کا کھانا حرام ہے البتہ مردار کا دباغت کیا ہوا چمڑا کام میں لانا اور اس کے بال سینگ ہڈی پٹھے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔(تفسیرات احمدیہ البقرۃتحت الایۃ: ۱۷۳ ص۴۴) زندہ جانور کا وہ عضو جو کاٹ لیا گیا ہووہ بھی مردار ہی ہے۔ (2)…خون: خون ہر جانور کا حرام ہے جبکہ بہنے والا خون ہو ۔ سورہ انعام ایت 145میں فرمایا :’’ او دما مسفوحا‘‘ ’’یا بہنے والا خون‘‘ ذبح کے بعد جو خون گوشت اور رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ ناپاک نہیں۔ (3)…خنزیر: خنزیر (یعنی سور) نجس العین ہے اس کا گوشت پوست بال ناخن وغیرہ تمام اجزاء نجس و حرام ہیں کسی کو کام میں لانا جائز نہیں چونکہ ایت میں اوپر سے کھانے کا بیان ہورہا ہے اس لیے یہاں صرف گوشت کا ذکر ہوا۔ (4)… غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ: اس کا معنی یہ ہے کہ جانور ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کا نام لیا جائے اور جس جانور کو غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حرام و مردار ہے البتہ اگر ذبح فقط اللہ تعالی کے نام پر کیا اور اس سے پہلے یا بعد میں غیر کا نام لیا مثلا یہ کہا کہ عقیقہ کا بکرا ولیمہ کا دنبہ یا جس کی طرف سے وہ ذبیحہ ہے اسی کا نام لیا مثلا یہ کہا کہ اپنے ماں باپ کی طرف سے ذبح کررہا ہوں یا جن اولیاء کے لیے ایصال ثواب مقصود ہے ان کا نام لیا تو یہ جائز ہے اس میں کچھ حرج نہیں اور ا س فعل کو حرام کہنا اور ایسے جانور کو مردار کہنا سراسر جہالت ہے کیونکہ ذبح سے پہلے یا ذبح کے بعد غیر کی طرف منسوب کرنا ایسافعل نہیں جو کہ حرام ہوجیسے ہم اپنی عام گفتگو میں بہت سی عبادات کو غیر کی طرف منسوب کرتے ہیں مثلا یوں کہتے ہیں کہ ظہر کی نمازجنازہ کی نمازمسافر کی نمازامام کی نمازمقتدی کی نماز بیمار کی نماز پیر کا روزہاونٹوں کی زکوۃ اور کعبہ کا حج وغیرہجب یہ نسبتیں حرام نہیں اور ان نسبتوں کی وجہ سے نماز زکوۃ اور حج وغیرہ میں کفر و شرک اور حرمت تو درکنار نام کو بھی کراہت نہیں اتی تو کسی ولی یا بزرگ یا کسی اور کی طرف منسوب کر کے فلاں کی بکری کہنا کیسے حرام ہو گیا اور اس سے یہ خدا کے حلال کئے ہوئے جانور کیوں جیتے جی مردار ا ور سور ہو گئے کہ اب کسی صورت حلال نہیں ہو سکتے ۔ جو لوگ انہیں مردار کہتے ہیں وہ شریعت مطہرہ پر سخت جرات کرتے ہیں۔یاد رکھیں کہ کوئی مسلمان اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کا نام لے کر جانور ذبح نہیں کرتا اور کسی مسلمان کے بارے میں شرعی ثبوت کے بغیر یہ کہنا کہ اس نے غیراللہ کانام لے کر جانور ذبح کیا تو یہ بد گمانی ہے اور کسی مسلمان پر بد گمانی کرناحرام ہے اور حتی الامکان اس کے قول اور فعل کو صحیح وجہ پر محمول کرنا واجب ہے اور ذبح کے معاملے میں دل کے ارادے پر اس وقت تک کوئی حکم نہیں لگایا جا سکتا جب تک قائل اپنے ارادے کی تصریح نہ کر دے اور اگر بالفرض بعض نا سمجھ احمقوں پر شرعی ثبوت کے ساتھ ثابت ہو بھی جائے کہ انہوں نے غیراللہ کا نام لے کر ذبح کیا اور اس ذبح سے معاذاللہ ان کا مقصود غیر خدا کی عبادت ہے تو کفر کا حکم صرف انہیں پر ہو گاان کی وجہ سے عام حکم لگا دینا اور باقی لوگوں کی بھی یہی نیت سمجھ لینا باطل ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے رب تعالی کا نام لے کرذبح کر رہا ہے تو اس پر بد گمانی حرام و ناروا ہے اور خود سے بنائے ہوئے ذہنی تصورات پر کسی مسلمان کو معاذ اللہ کفر کا مرتکب سمجھنا اللہ تعالی کے حلال کئے ہوئے کو حرام کہہ دینا ہے اور تکبیر کے وقت جو اللہ تعالی کا نام لیا گیا اسے باطل و بے اثر ٹھہرانا ہر گزصحیح ہونے کی کوئی وجہ نہیں رکھتا ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: و ما لكم الا تاكلوا مما ذكر اسم الله علیه(انعام:۱۱۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے ۔ امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ہمیں شریعت مطہرہ نے ظاہر پر عمل کرنے کا حکم فرمایا ہے باطن کی تکلیف نہ دی تو جب اس نے اللہ تعالی کا نام پاک لے کر ذبح کیا توجانور کا حلال ہو نا واجب ہے کہ دل کا ارادہ جان لینے کی طرف ہمیں کوئی راہ نہیں۔(تفسیرکبیر البقرۃ تحت الایۃ: ۱۷۳ ۲ / ۲۰۱) اس مسئلے کے بارے میں مزید تفصیل اور دلائل جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 20ویں جلد میں موجود اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کا رسالہ ’’سبل الاصفیاء فی حکم ذبائح للاولیاء‘‘ مطالعہ فرمائیں۔ {فمن اضطر:تو جو مجبور ہوجائے۔} مضطریعنی مجبور جسے حرام چیزیں کھانا حلال ہے وہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے جان چلی جانے کا خوف ہواور کوئی حلال چیز موجود نہ ہو خواہ بھوک یا غربت کی وجہ سے یہ حالت ہو یا کوئی شخص حرام کے کھانے پر مجبور کرتا ہو اورنہ کھانے کی صورت میں جان کااندیشہ ہو ایسی حالت میں جان بچانے کے لیے حرام چیز کا قدر ضرورت یعنی اتنا کھالینا جائز ہے کہ ہلاکت کا خوف نہ رہے بلکہ اتنا کھانا فرض ہے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۷۳ ۱ / ۱۱۳) {غفور رحیم: بخشنے والا مہربان۔} حالت مجبوری میں حرام کھانے کی اجازت دینا اور اسے معاف رکھنا اللہ تعالی کی کرم نوازی کی دلیل ہے اس لئے ایت کے اخر میں مغفرت و رحمت والی صفات کا تذکرہ فرمایا۔