Surah Al Baqarah Ayat 186 (2:186)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ 186
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں نزدیک ہوں ، میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے تو انہیں چاہئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ ہدایت پائیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے محبوب جب تم سے میرے بندے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے تو انہیں چاہئے میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا سالك عبادی عنی: اور اے حبیب! جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں۔} اس ایت میں طالبان حق کی طلب مولی کا بیان ہے۔ جنہوں نے عشق الہی میں اپنی خواہشات کو قربان کردیا وہ اسی کے طلبگار ہیں۔ ان حضرات کو قرب ووصال الہی کی خوشخبری دی جارہی ہے ۔شان نزول :صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک جماعت نے جذبہ عشق الہی میں سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہمارا رب عزوجل کہاں ہے اس پر بتایا گیا کہ اللہ تعالی مکان سے پاک ہے۔ (خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۱۸۶۱ / ۱۲۳) کیونکہ جو چیز کسی سے مکان کے اعتبار سے قرب رکھتی ہو وہ اس کے دور والے سے ضروردوری پر ہوتی ہے اور اللہ تعالی سب بندوں سے قریب ہے۔ قرب الہی کی منازل تک رسائی بندے کو اپنی غفلت دور کرنے سے میسر آتی ہے۔ فارسی کا شعر ہے: دوست نزدیک تراز من بمن ست ویں عجب ترکہ من ازوے دورم ترجمہ: میرا دوست مجھ سے بھی زیادہ میرے نزدیک ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ میں اس سے دور ہوں۔ {اجیب دعوة الداع اذا دعان:میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرے۔} دعا کا معنی ہے اپنی حاجت پیش کرنا اور اجابت یعنی قبولیت کا معنی یہ ہے کہ پروردگار عزوجل اپنے بندے کی دعا پر ’’ لبیک عبدی‘‘ فرماتا ہے البتہ جو مانگا جائے اسی کاحاصل ہو جانا دوسری چیز ہے۔ اللہ تعالی کے کرم سے کبھی مانگی ہوئی چیز فورا مل جاتی ہے اور کبھی کسی حکمت کی وجہ سے تاخیر سے ملتی ہے۔ کبھی بندے کی حاجت دنیا میں پوری کردی جاتی ہے اورکبھی آخرت میں ثواب ذخیرہ کردیا جاتا ہے اور کبھی بندے کا نفع کسی دوسری چیز میں ہوتاہے تو مانگی ہوئی چیز کی بجائے وہ دوسری عطا ہو جاتی ہے۔ کبھی بندہ محبوب ہوتا ہے اس کی حاجت روائی میں اس لیے دیر کی جاتی ہے کہ وہ عرصہ تک دعا میں مشغول رہے۔ کبھی دعا کرنے والے میں صدق و اخلاص وغیرہ قبولیت کی شرائط نہیں ہوتیں اس لئے منہ مانگی مراد نہیں ملتی۔ اسی لیے اللہ تعالی کے نیک اور مقبول بندوں سے دعا کرائی جاتی ہے تاکہ ان کی دعا کے صدقے گناہگاروں کی بگڑی بھی سنور جائے ۔ دعا کے بارے میں تفصیل جاننے کیلئے ’’فیضان دعا‘‘ کتاب کا مطالعہ فرمائیں۔[1] [1] ۔۔۔’’فضائل دعا‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ بھی بہت مفید ہے۔