Surah Al Baqarah Ayat 19 (2:19)
The Cow · Juz 1 · Madani
اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیا (ان کی مثال) آسمان سے اترنے والی بارش کی طرح ہے جس میں تاریکیاں اور گرج اور چمک ہے ۔ یہ زور دار کڑک کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں حالانکہ اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{او كصیب من السمآء:یا جیسے اسمان سے بارش۔} ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری مثال بیان کی گئی ہے اور یہ ان منافقین کا حال ہے جو دل سے اسلام قبول کرنے اور نہ کرنے میں متردد رہتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جس طرح اندھیری رات اور بادل و بارش کی تاریکیوں میں مسافر متحیر ہوتا ہے جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں اور یہی مقام اپنے اور بیگانے مخلص اور منافق کے پہچان کا ہوتا ہے۔منافقوں کی اسی طرح کی حالت سورہ نور ایت نمبر48اور49میں بھی بیان کی گئی ہے۔ {على كل شیء قدیر : اللہ تعالی ہر شے پر قادر ہے۔}شے اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالی چاہے اور جو مشیت یعنی چاہنے کے تحت اسکے۔ ہر ممکن چیز شے میں داخل ہے اور ہر شے اللہ تعالی کی قدرت میں ہے اورجو ممکن نہیں بلکہ واجب یامحال ہے اس سے اللہ تعالی کے ارادہ اور قدرت کا تعلق ہی نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لیے قدرت کے تحت داخل نہیں مثلا یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی چاہے تو اپنا علم ختم کرکے بے علم ہوجائے یا معاذاللہ جھوٹ بولے۔ یاد رہے کہ ان چیزوں کا اللہ تعالی کی قدرت کے تحت نہ انا اس کی قدرت میں نقص و کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ان چیزوں کا نقص ہے کہ ان میں یہ صلاحیت نہیں کہ اللہ تعالی کی قدرت سے متعلق ہوسکیں۔