Surah Al Baqarah Ayat 200 (2:200)
The Cow · Juz 2 · Madani
فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًاؕ-فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ 200
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب اپنے حج کے کام پورے کرلوتو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ (ذکر کرو) اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دیدے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب اپنے حج کے کام پورے کرچکو تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے رب ہمارے ہمیں دنیا میں دے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{فاذكروا الله كذكركم ابآءكم: تو اللہ کا ذکر کرو جیسے اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے تھے۔} زمانہ جاہلیت میں عرب حج کے بعد کعبہ کے قریب اپنے باپ دادا کے فضائل بیان کیا کرتے تھے۔(صاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۲۰۰ ۱ / ۱۷۰) اسلام میں بتایا گیا کہ یہ شہرت و خود نمائی کی بیکار باتیں ہیں اس کی بجائے ذوق وشوق کے ساتھ ذکر الہی کرو ۔ اس ایت سے بلند اواز سے ذکر کرنا اور لوگوں کا اکٹھے مل کر ذکر کرنا دونوں ثابت ہوتے ہیں کیونکہ عرب لوگ اپنے باپ دادا کا ذکر بلند اواز سے کرتے تھے اور مجمع میں کرتے تھے۔ {فمن الناس من یقول:کچھ لوگ کہتے ہیں۔} ایت کے اس حصے اور اس کے بعد والی ایت میں دعا کرنے والوں کی دو قسمیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ ایک وہ کافر جن کی دعا میں صرف طلب دنیا ہوتی تھی اوراخرت پر ان کا اعتقا د نہ تھا ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں۔دوسرے وہ ایمان دار جو دنیا و اخرت دونوں کی بہتری کی دعا کرتے ہیں۔ دنیا کی بہتری طلب کرنے کا حکم : یاد رہے کہ مومن اگر دنیا کی بہتری طلب کرتا ہے تووہ بھی جائز ہے اور یہ طلب دنیا اگردین کی تائید و تقویت کے لئے ہو تو یہ دعا بھی اموردین سے شمار ہوگی۔لیکن یہ یاد رہے کہ اخرت کو اصلا فراموش کرکے صرف دنیا مانگنا بہر حال مسلمان کے شایان شان نہیں۔ دنیا کے طلبگاروں اور اخرت کے طلبگاروں کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: من كان یرید العاجلة عجلنا له فیها ما نشآء لمن نرید ثم جعلنا له جهنم-یصلىها مذموما مدحورا(۱۸)و من اراد الاخرة و سعى لها سعیها و هو مؤمن فاولىك كان سعیهم مشكورا(بنی اسرائیل:۱۸ ۱۹) ترجمہ کنزالعرفان:جو جلدی والی (دنیا)چاہتا ہے تو ہم جسے چاہتے ہیں اس کیلئے دنیا میں جو چاہتے ہیں جلد دیدیتے ہیں پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بنارکھی ہے جس میں وہ مذموممردود ہوکر داخل ہوگا۔ اور جو آخرت چاہتا ہے اوراس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ نیز ایک اورمقام پر صرف دنیا کی رنگینیوں میں مگن رہنے والوں سے اور اس کے بعد جو اللہ تعالی کے نزدیک بہتر اور افضل چیزہے اس کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے : زین للناس حب الشهوت من النسآء و البنین و القناطیر المقنطرة من الذهب و الفضة و الخیل المسومة و الانعام و الحرث-ذلك متاع الحیوة الدنیا-و الله عنده حسن الماب(۱۴)قل اؤنبئكم بخیر من ذلكم-للذین اتقوا عند ربهم جنت تجری من تحتها الانهر خلدین فیها و ازواج مطهرة و رضوان من الله-و الله بصیر بالعباد(ال عمران: ۱۴ ۱۵) ترجمہ کنزالعرفان:لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو اراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اورمویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے اراستہ کردیا گیا) یہ سب دنیوی زندگی کا سازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔(اے حبیب!)تم فرماؤ (اے لوگو!)کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں (سنو وہ یہ ہے کہ)پرہیزگاروں کے لئے ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے اور (وہاں ) پاکیزہ بیویاں اور اللہ کی خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔