Surah Al Baqarah Ayat 203 (2:203)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍؕ-فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِۚ-وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِۙ-لِمَنِ اتَّقٰىؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ 203
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو تو جو جلدی کرکے دو دن میں (منیٰ سے) چلا جائے اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو پیچھے رہ جائے تو اس پر (بھی) کوئی گناہ نہیں ۔ (یہ بشارت) پرہیزگار کے لئے ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم اسی کی طرف اٹھائے جاؤ گے ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ کی یاد کرو گنے ہوئے دنوں میں توجو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو رہ جائے تو اس پر گناہ نہیں پرہیزگار کے لئے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذكروا الله فی ایام معدودت:اور گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔} گنتی کے دنوں سے مراد ایام تشریق ہیں اور ذکراللہ سے نمازوں کے بعد اور جمرات کی رمی کے وقت تکبیر کہنا مراد ہے۔ (صاوی البقرۃ تحت الایۃ: ۲۰۳ ۱ / ۱۷۱) اورمراد یہ ہے کہ منی میں قیام کے دوران اللہ تعالی کے ذکر میں مشغول رہو۔ {فمن تعجل فی یومین: تو جو جلدی کرکے دو دن میں چلا جائے۔} دس گیارہ بارہ اور تیرہ ذوالحج ان چار دنوں میں منی میں جمرات پر رمی کی جاتی ہے۔ دس تاریخ کو صرف ایک جمرہ کی اور بقیہ تاریخوں میں تینوں جمرات کی۔تیرہ تاریخ کو بھی رمی تو ہے لیکن اگر کوئی شخص بارہ تاریخ کی رمی کرکے منی سے واپس اجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اگرچہ تیرہ کو رمی کرکے واپس انا افضل ہے۔(تفسیرات احمدیہ البقرۃ تحت الایۃ: ۲۰۳ ص۹۸) یہاں دو دنوں میں رمی کرکے چلے جانے سے مراد دس ذوالحجہ کے بعد دودن ہیں۔