Surah Al Baqarah Ayat 204 (2:204)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖۙ-وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ 204
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تمہیں بہت اچھی لگتی ہے اوروہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بعض آدمی وہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں اس کی بات تجھے بھلی لگے اور اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ لائے اور وہ سب سے بڑا جھگڑالو ہے۔
Tafseer (Urdu)
{من یعجبك قوله: جس کی گفتگو تجھے اچھی لگتی ہے۔} شان نزول: یہ ایت اخنس بن شریق منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر بہت لجاجت سے میٹھی میٹھی باتیں کرتا تھا اور اپنے اسلام اور اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی محبت کا دعوی کرتا اوراس پر قسمیں کھاتا اور درپردہ فساد انگیزی میں مصروف رہتا تھا۔ اس نے مسلمانو ں کے مویشیوں کو ہلا ک کیا او ر ان کی کھیتیوں کو اگ لگائی تھی۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۰۴ ۱ / ۱۴۴-۱۴۵) یہاں مجموعی طور پر جو خرابیاں بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں : (1)…ظاہری طور پر بڑی اچھی باتیں کرنا (2)…اپنی غلط باتوں پر اللہ کو گواہ بنانا (3)…جھگڑالو ہونا (4)… فساد پھیلانا (5)…لوگوں کے اموال برباد کرنا (6)…نصیحت کی بات سن کر قبول کرنے کی بجائے تکبر کرنا ۔ یہاں ایت مبارکہ میں اگرچہ ایک خاص منافق کا تذکرہ ہے لیکن یہ ایت بہت سے لوگوں کو سمجھانے کیلئے کافی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی زبان بڑی میٹھی ہے گفتگو بڑی نرمی سے کرتے ہیں بڑی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں لیکن در پردہ دین کے مسائل میں یا لوگوں میں یا خاندانوں میں فساد برپا کرتے ہیں اور ہلاکت و بربادی کا ذریعہ بنتے ہیں۔