Surah Al Baqarah Ayat 212 (2:212)
The Cow · Juz 2 · Madani
زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۘ-وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ 212
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی کو خوشنما بنادیا گیا اور وہ مسلمانوں پرہنستے ہیں اور (اللہ سے) ڈرنےوالے قیامت کے دن ان کافروں سے اوپر ہوں گے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی آراستہ کی گئی اور مسلمانوں سے ہنستے ہیں اور ڈر والے ان سے اوپر ہوں گے قیامت کے دن اور خدا جسے چاہے بے گنتی دے۔
Tafseer (Urdu)
{زین للذین كفروا الحیوة الدنیا: کافروں کی نگاہ میں دنیا کی زندگی کو خوشنما بنادیا گیا۔} کافروں کیلئے دنیا کی زندگی اراستہ کردی گئی یعنی انہیں یہی زندگی پسند ہے وہ اسی کی قدر کرتے اور اسی پر مرتے ہیں۔دنیا کی زندگی وہ ہے جو نفس کی خواہشات میں صرف ہو اور جو توشہ اخرت جمع کرنے میں خرچ ہو وہ بفضلہ تعالی دینی زندگی ہے۔ اس ایت میں وہ لوگ داخل ہیں جو اخرت سے غافل ہیں۔ {و یسخرون من الذین امنوا: اور وہ مسلمانوں پرہنستے ہیں۔} کفار غریب مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے اور دنیاوی سازو سامان سے ان کی بے رغبتی دیکھ کر ان کی تحقیر کرتے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عمار بن یاسر حضرت صہیب اور حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہم کو دیکھ کر کفار مذاق اڑایا کرتے تھے اور دولت دنیا کے غرور میں اپنے آپ کو اونچا سمجھتے تھے۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۱۲ ۱ / ۱۵۰) ان کے متعلق فرمایا کہ قیامت کے دن ایماندار ان کافروں سے بلندو بالا ہوں گے کیونکہ بروز قیامت مومنین قرب الہی میں ہوں گے اور کفار جہنم میں ذلیل و خوارہوں گے ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانایا کسی مومن کو ذلیل یا کمینہ جاننا کافروں کا طریقہ ہے۔فاسق و کافر اگرچہ مالدار ہو ذلیل ہے اور مومن اگرچہ غریب ہو کسی بھی قوم سے ہو عزت والا ہے بشرطیکہ متقی ہو۔