Surah Al Baqarah Ayat 211 (2:211)
The Cow · Juz 2 · Madani
سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍؕ-وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ 211
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں اور جو اللہ کی نعمت کواپنے پاس آنے کے بعد بدل دے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبنی اسرائیل سے پوچھو ہم نے کتنی روشن نشانیاں انہیں دیں اور جو اللہ کی آئی ہوئی نعمت کو بدل دے تو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ كم اتینهم من ایةۭ بینة: ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں دیں۔} فرمایا گیا کہ بنی اسرائیل سے پوچھو کہ ہم نے انہیں کتنی روشن نشانیاں عطا فرمائیں ان کے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے معجزات کو ان کی نبوت کی صداقت کی دلیل بنایا ان کے ارشاد اور ان کی کتابوں کو دین اسلام کی حقانیت کا گواہ بنایا۔یاد رہے کہ یہ پوچھنا حقیقت میں انہیں قائل کرنے اور شرمندہ کرنے کے لئے ہے اور ان کی اپنی نافرمانیوں کے باوجود اللہ تعالی کی مہربانیوں کا اقرار کرانے کے لئے ہے۔ {و من یبدل نعمة الله: اور جو اللہ کی نعمت کو بدل دے۔} اللہ تعالی کی نعمت سے آیات الہیہ مراد ہیں جو ہدایت کا سبب ہیں اوران کی بدولت گمراہی سے نجات حاصل ہوتی ہے انہیں میں سے وہ آیات ہیں جن میں سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نعت و صفت اور حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہود و نصاری کا اپنی کتابوں میں تحریف کرنا اس نعمت کو تبدیل کرناہے۔