Surah Al Baqarah Ayat 224 (2:224)
The Cow · Juz 2 · Madani
وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 224
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو احسان کرنے اور پرہیزگاری اختیارکرنے او ر لوگوں میں صلح کرانے میں آڑنہ بنالو اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ کو اپنی قَسَموں کا نشانہ نہ بنالو کہ احسان اور پرہیزگاری او ر لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تجعلوا الله عرضة لایمانكم: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو اڑنہ بنالو۔} حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے قسم کھائی تھی کہ میں اپنے بہنوئی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے نہ کلام کروں گا نہ ان کے گھر جاوں گا اورنہ ان کے مخالفین سے ان کی صلح کراوں گا۔ جب اس کے متعلق ان سے کہا جاتا تو وہ کہتے کہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے یہ کام کر ہی نہیں سکتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۲۴ ۱ / ۱۶۴) اور نیک کام نہ کرنے کی قسم کھانے سے منع کردیا گیا۔ نیکی سے باز رہنے کی قسم کھانے والے کو کیا کرنا چاہئے: یہاں ایک اہم مسئلہ یاد رکھیں کہ اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہیے کہ قسم کو پورا نہ کرےبلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی مسلم شریف کی حدیث میں ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی امر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہیے کہ اس امر خیر کو کرلے اور قسم کا کفارہ دے۔(مسلم کتاب الایمان باب ندب من حلف یمینا۔۔۔ الخ ص ۸۹۸ الحدیث: ۱۲(۱۶۵۰)) یہی حکم سورہ نور ایت نمبر 22میں بھی مذکور ہے۔