Surah Al Baqarah Ayat 225 (2:225)
The Cow · Juz 2 · Madani
لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰـكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ 225
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اللہ ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جن کا تمہارے دلوں نے قصد کیا ہو اور اللہ بہت بخشنے والا،بڑا حلم والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ تمہیں نہیں پکڑ تا ان قَسَموں میں جو بے ارادہ زبان سے نکل جائے ہاں اس پر گرفت فرماتا ہے جو کام تمہارے دل نے کئے اور اللہ بخشنے والا حلم والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لا یؤاخذكم الله باللغو فی ایمانكم: اور اللہ ان قسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرمائے گاجو بے ارادہ زبان سے نکل جائے۔} قسم تین طرح کی ہوتی ہے: (۱) لغو ۔(۲) غموس۔ (۳) منعقدہ ۔ (1)… لغویہ ہے کہ کسی چیز کو اپنے خیال میں صحیح جان کر قسم کھائی اور درحقیقت وہ اس کے خلاف ہو یہ معاف ہے اور اس پر کفارہ نہیں۔ (2)… غموس یہ ہے کہ کسی گزری ہوئی چیز پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے یہ حرام ہے اور احادیث میں اس پر سخت وعیدیں ہیں۔ (3)… منعقدہ یہ ہے کہ کسی آئندہ چیزپر قسم کھائے اس قسم کو اگر توڑے تو بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہے اور کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ’’قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کمی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھانی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تکیہ کلام بنا رکھا ہے کہ قصد و بے قصد زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کابھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یہ سخت معیوب ہے(بہار شریعت حصہ نہم قسم کا بیان ۲ / ۲۹۸)۔[1] [1] ۔۔۔۔ قسم کے مسائل جاننے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے قسم کے بارے میں سوال جواب(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ کیجئے۔