Surah Al Baqarah Ayat 256 (2:256)
The Cow · Juz 3 · Madani
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ-لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 256
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariدین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت کی راہ گمراہی سے خوب جدا ہوگئی ہے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا جس سہارے کو کبھی کھلنا نہیں اوراللہ سننے والا، جاننے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکچھ زبردستی نہیں دین میں بیشک خوب جدا ہوگئی ہے نیک راہ گمراہی سے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑی مُحکَم گرہ تھامی جسے کبھی کھلنا نہیں اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لا اكراه فی الدین: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شیطان کا انکار کرے اور اللہ تعالی پر ایمان لائے تو اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا اور یہ ٹوٹنے والا نہیں الایہ کہ بندہ خود ہی اسے چھوڑ دے ۔ ایت ’’ لا اكراه فی الدین‘‘سے معلوم ہونے والے احکام: (1)… صفات الہیہ کے بعد ’’لا اكراه فی الدین‘‘فرمانے میں یہ اشارہ ہے کہ اب عقلمند ادمی کے لیے قبول حق میں تاخیر کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ کسی کافر کو جبرا مسلمان بنانا جائز نہیں مگر مسلمان کو جبرا مسلمان رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ دین اسلام کی توہین اور دوسروں کیلئے بغاوت کا راستہ ہے جسے بند کرنا ضروری ہے لہذا کسی مسلمان کو مرتد ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی یا تو وہ اسلام لائے یا اسے قتل کیا جائے گا۔ اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کے مرتدین سے فرمایا تھا : فاقتلوا انفسكم (بقرہ: ۵۴) ترجمہ کنزالعرفان: اپنے اپ کو قتل کے لئے پیش کر دو۔ (2)…اس ایت میں’’کفر ‘‘کا لفظ لغوی معنی میں ہے یعنی انکار کرنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کے لئے ضروری ہے کافرپہلے اپنے کفر سے توبہ کرے اور بیزار ہو اس کے بعد ایمان لانا صحیح ہوتا ہے۔ اگر کوئی مرتد ہوجائے تو وہ بھی صرف کلمہ پڑھ لینے یا مسلمانوں والا کوئی دوسرا کام کرلینے سے مسلمان نہ ہوگا جب تک اپنے اس ارتداد سے توبہ نہ کرے۔ (3)…اس ایت میں طاغوت سے بچنے کا جو فرمایا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اسلام پر مضبوطی سے وہ ہی قائم رہ سکتا ہے جو بے دینوں کی صحبت ان کی الفت ان کی کتابیں دیکھنے ان کے وعظ سننے سے دور ہے اور جو اپنے ایمان کی رسی پر خود ہی چھریاں چلائے گا اس کی رسی کا کٹنے سے بچنا مشکل ہے۔