Surah Al Baqarah Ayat 257 (2:257)
The Cow · Juz 3 · Madani
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 257
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں ۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں ،یہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیریوں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیریوں کی طرف نکالتے ہیں یہی لوگ دوزخ والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا۔
Tafseer (Urdu)
{الله ولی الذین امنوا: اللہ مسلمانوں کا والی ہے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی مومنوں کا دوست ہے کہ انہیں کفر و ضلالت کی تاریکیوں سے ایمان و ہدایت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے انہیں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور صالحین کے طریقے کی طرف لاتا ہے جبکہ کافروں کا دوست شیطان ہے جو انہیں فطرت صحیحہ کی روشنی سے کفر کی تاریکیوں کی طرف لے جاتا ہے۔ حق کا راستہ ایک ہے اور باطل کے بہت سارے راستے ہیں اس لئے یہاں ’’نور‘‘ کو واحد اور ’’ ظلمات‘‘ کو جمع ذکر کیا گیا۔ نور کی طرف جانے کاسب سے بڑ اذریعہ: یاد رہے کہ مومنوں کے نور کی طرف جانے کا سب سے بڑا ذریعہ حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں چنانچہ سورہ ابراہیم ایت نمبر 1میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا : ہم نے اپ کی طرف کتاب نازل فرمائی ’’ لتخر ج الناس من الظلمت الى النور‘‘ تاکہ اپ لوگوں کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکالیں۔