Surah Al Baqarah Ayat 271 (2:271)
The Cow · Juz 3 · Madani
اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَۚ-وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْؕ-وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ 271
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگر تم اعلانیہ خیرات دو گے تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگرتم چھپا کر فقیروں کو دو تویہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اللہ تم سے تمہاری کچھ برائیاں مٹا دے گا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاگر خیرات علانیہ دو تو وہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اگر چھپا کر فقیروں کو دو یہ تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اور اس میں تمہارے کچھ گناہ گھٹیں گے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان تبدوا الصدقت: اگر تم اعلانیہ خیرات دو گے۔} صدقہ خواہ فرض ہو یا نفل جب اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے دیا جائے اور ریا سے پاک ہو تو خواہ ظاہر کرکے دیں یا چھپا کر دونوں بہتر ہیں۔ لیکن صدقہ فرض کو ظاہر کرکے دینا افضل ہے اور نفل کو چھپا کر اور اگر نفل صدقہ دینے والا دوسروں کو خیرات کی ترغیب دینے کے لیے ظاہر کرکے دے تو یہ اظہار بھی افضل ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مجمع عام میں صدقہ کی ترغیب دیتے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سب کے سامنے صدقات پیش کرتے۔سیدنا صدیق اکبر سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہم کے اعلانیہ صدقات میں یہی حکمت تھی۔ صدقات کی مزید فضیلت یہ بیان فرمائی کہ اس سے گناہ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں۔ احادیث میں صدقہ کے بے پناہ فضائل مذکور ہیں جیسے صدقہ غضب الہی کو بجھاتا اور بری موت دور کرتا ہے۔ گناہ مٹاتا ہے۔ برائی کے ستر دروازے بند کرتا ہے اوربری قضا ٹال دیتا ہے۔ صدقہ دینے سے روزی اور مدد ملتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے۔ افتیں دور ہوتی ہیں نیز بلا صدقے سے اگے قدم نہیں بڑھاتی۔ ( فتاوی رضویہ ۲۳ / ۱۳۷-۱۴۰ ملخصا) اکثر و بیشتر اعمال میں یہی قاعدہ ہے کہ وہ خفیہ اور اعلانیہ دونوں طرح جائز ہیں لیکن ریاکاری کیلئے اعلانیہ کرنا حرام ہے اور دوسروں کی ترغیب کیلئے کرنا ثواب ہے۔ مشائخ و علماء بہت سے اعمال اعلانیہ اسی لئے کرتے ہیں کہ ان کے مریدین و متعلقین کو ترغیب ہو۔