Surah Al Baqarah Ayat 270 (2:270)
The Cow · Juz 3 · Madani
وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗؕ-وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ 270
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم جو خرچ کرو یا کوئی نذر مانو اللہ اسے جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم جو خرچ کرو یا منت مانو اللہ کو اس کی خبر ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و ما انفقتم من نفقة: اور تم جو خرچ کرو۔ }یہاں ایت میں وعدہ اور وعید دونوں بیان کئے گئے ہیں کیونکہ فرمایا گیا کہ تم جو خرچ کروخواہ نیکی میں خواہ بدی میں یونہی تم جو نذر مانو اچھے کام کی یا گناہ کے کام کی ان تمام چیزوں کو اللہ تعالی جانتا ہے تو اچھے عمل خرچ اور نذر پر ثواب دے گا جبکہ گناہ کے عمل خرچ اورنذر پر سزا دے گا۔ نذر کی تعریف اور ا س کے چند احکام: یاد رہے کہ عرف میں ہدیہ اور پیش کش کونذر کہتے ہیں جیسے کسی بڑے کو کوئی چیز پیش کریں تو کہتے ہیں کہ جناب یہ اپ کی نذر کی۔ نذر کی دو قسمیں ہیں (1)…نذر شرعی۔ شرع میں نذر عبادت اور قربت مقصودہ ہے اسی لئے اگر کسی نے گناہ کرنے کی نذر مانی تو وہ صحیح نہیں ہوئی۔ نذر خاص اللہ تعالی کے لیے ہوتی ہے اور یہ جائز ہے کہ اللہ تعالی کے لیے نذر کرے اور کسی ولی کے آستانہ کے فقراء کو نذر کے صرف کرنے کی جگہ مقرر کرے مثلا کسی نے یہ کہا یارب !عزوجل میں نے نذر مانی کہ اگر تو میرا فلاں مقصد پورا کردے کہ فلاں بیمار کو تندرست کردے تو میں فلاں ولی کے آستانہ کے فقراء کو کھانا کھلاوں یا وہاں کے خدام کو روپیہ پیسہ دوں یا ان کی مسجد کے لیے فلاں سامان مہیا کروں گا تو یہ نذر جائز ہے۔(ردالمحتار کتاب الصوم مطلب فی النذر الذی یقع للاموات۔۔۔ الخ ۳ / ۴۹۱) شرعی نذر صرف اللہ تعالی ہی کے لئے ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے معنی ہیں غیر لازم عبادت کو لازم کرلینا ہاں اس نذر کا مصرف اولیاء اللہ کے غریب مجاور بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ (2)… نذر کی دوسری قسم یعنی لغوی نذر جسے عرفی نذر بھی کہتے ہیں جو نذرانہ کے معنی میں ہے وہ مخلوق کے لئے بھی ہو سکتی ہےجیسے بزرگان دین کیلئے نذر و نیاز کی جاتی ہے مزارات پر چادر چڑھانے کی نذر مانی جاتی ہے۔ اس طرح کی نذروں کا پورا کرنا ضروری نہیں البتہ بہتر ہے۔ اس بارے میں تفصیل جاننے کیلئے فتاوی رضویہ کی 20ویں جلد میں موجود اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ کے رسالے’’سبل الاصفیاء فی حکم الذبح للاولیاء(اولیاء اللہ رحمہم اللہ تعالی کی طرف منسوب جانوروں کے ذبح کرنے کا جواز)‘‘کا مطالعہ فرمائیں۔