Surah Al Baqarah Ayat 279 (2:279)
The Cow · Juz 3 · Madani
فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ 279
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو اور اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے اپنا اصل مال لینا جائز ہے۔ نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اورنہ تمہیں نقصان ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔
Tafseer (Urdu)
{فاذنوا بحرب من الله و رسوله: تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے لڑائی کا یقین کرلو۔} سود کی حرمت کا حکم نازل ہوچکا اس کے بعد بھی جو سودی لین دین جاری رکھے گا وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جنگ کا یقین کرلے۔ یہ شدید ترین وعید ہے کس کی مجال کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لڑائی کا تصور بھی کرے چنانچہ جن اصحاب کا سودی معاملہ تھا انہوں نے اپنے سودی مطالبات چھوڑ دئیے اور عرض کیا کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے لڑائی کی ہمیں کیا تاب ۔ یہ کہہ کر وہ تائب ہوگئے۔ (خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۷۹ ۱ / ۲۱۲) لیکن اج کل کے نام نہاد مسلمان دانشوروں کا حال یہ ہے کہ وہ توبہ کی بجائے اگے سے خود اللہ تعالی کو اعلان جنگ کررہے ہیں اور سود کی اہمیت و ضرورت پر کتابیں ارٹیکل مضامین اور کالم لکھ کر ورق سیاہ کررہے ہیں۔ دو گناہوں پر اعلان جنگ دیا گیا : خیال رہے کہ دو گناہوں پر اعلان جنگ دیا گیا ہے۔ (1) سود لینے پر جیسا کہ یہاں ایت میں بیان ہوا۔ (2) اللہ تعالی کے ولی سے عداوت رکھنے پر جیسا کہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’جو میرے کسی ولی سے عداوت رکھے تو میں نے اس سے جنگ کا اعلان کردیا۔(بخاری کتاب الرقاق باب التواضع۴ / ۲۴۸ الحدیث: ۶۵۰۲) {و ان تبتم: اور اگر تم توبہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اگر تم توبہ کرو تو جو تمہارا اصل دیا ہوا قرض ہے وہ لینا تمہارے لئے جائز ہے اور اس کا مطالبہ کرسکتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ سود حرام ہونے سے پہلے جو سود لیا گیا وہ حلال تھا وہ رقم اصل قرض سے نہ کٹے گی بلکہ اب پورا قرض لینا جائز ہوگا۔ {لا تظلمون و لا تظلمون: نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ تمہیں نقصان ہو۔} یعنی نہ تو مقروض سے زیادہ لے کر اس پر تم ظلم کرو اور نہ اصل قرضے کی رقم سے محروم ہوکر خود مظلوم بنو۔ ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے: یہ ایت اگرچہ سود کے حوالے سے ہے لیکن عمومی زندگی میں بھی شریعت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ نہ ظلم کیا جائے اور نہ ظلم برداشت کیا جائے یعنی ظلم کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ظلم کو برداشت کرنا ظالم کو مزید جری کرتا ہے۔ ہاں جہاں عفو و درگزر کی صورت بنتی ہو وہاں اسے اختیار کیا جائے۔ شریعت کا قاعدہ ہے’’ لا ضرر ولا ضرار‘‘ نہ نقصان پہنچاو اور نہ نقصان برداشت کرو۔ (ابن ماجہ کتاب الاحکام باب من بنی فی حقہ ما یضر بجارہ ۳ / ۱۰۶ الحدیث: ۲۳۴۰)