Surah Al Baqarah Ayat 280 (2:280)
The Cow · Juz 3 · Madani
وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 280
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلا ہے اگر جانو۔
Tafseer (Urdu)
{و ان كان ذو عسرة:اور اگر مقروض تنگدست ہو۔} یعنی تمہارے قرضداروں میں سے اگر کوئی تنگ دستی کی وجہ سے تمہارا قرض ادا نہ کر سکے تو اسے تنگ دستی دور ہونے تک مہلت دو اور تمہارا تنگ دست پر اپنا قرض صدقہ کر دینا یعنی معاف کردینا تمہارے لئے سب سے بہتر ہے اگر تم یہ بات جان لو کیونکہ اس طرح کرنے سے دنیا میں لوگ تمہاری اچھی تعریف کریں گے اور اخرت میں تمہیں عظیم ثواب ملے گا۔(خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۲۸۰ ۱ / ۲۱۸) قرضدار کو مہلت دینے اور قرضہ معاف کرنے کے فضائل: اس ایت سے معلوم ہوا کہ قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا کچھ حصہ یا پورا قرضہ معاف کردینا اجر عظیم کا سبب ہے۔ احادیث میں بھی اس کے بہت فضائل بیان ہوئے ہیں چنانچہ ا س کے5فضائل درج ذیل ہیں : (1)… حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالی اس کو قیامت کے دن کی تکلیفوں سے نجات دے وہ کسی مفلس کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کردے۔(مسلمکتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب فضل انظار المعسر ص۸۴۵ الحدیث: ۳۲(۱۵۶۳)) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کر دیا اللہ تعالی قیامت کے دن اسے عرش کے سائے میں رکھے گا جبکہ اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا۔(ترمذی کتاب البیوع باب ما جاء فی انظار المعسر۔۔۔ الخ ۳ / ۵۲ الحدیث: ۱۳۱۰) (3)…حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے جو بیچنے اور خریدنے اور تقاضا کرنے میں اسانی کرے۔ (بخاری کتاب البیوع باب السہولۃ والسماحہ فی الشراء والبیع ۲ / ۱۲ الحدیث: ۲۰۷۶ ) (4)… حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ گزشتہ زمانے میں ایک شخص کی روح قبض کرنے جب فرشتہ ایا تو مرنے والے سے سوال کیا کہ کیا تجھے اپنا کوئی اچھا کام یاد ہے اس نے کہا میرے علم میں کوئی اچھا کام نہیں ہے۔ اس سے کہا گیا :غور کر کے بتا۔ اس نے کہا: صرف یہ عمل تھا کہ دنیا میں لوگوں سے تجارت کرتا تھا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش اتا تھا اگر مالدار بھی مہلت مانگتا تو اسے مہلت دے دیتا تھا اور تنگدست سے درگزر کرتا یعنی معاف کر دیتا تھا۔ اللہ تعالی نے (فرشتے سے ) فرمایا:تم اس سے در گزر کرو۔(مسند امام احمد حدیث حذیفۃ بن الیمان ۹ / ۹۸ الحدیث: ۲۳۴۱۳ مسلمکتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب فضل انظار المعسر ص۸۴۳ الحدیث: ۲۶(۱۵۶۰)) (5)… اور صحیح مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی بارگاہ میں حاضر اس معاف کرنے والے مالدار پر اسانی کرنے اور تنگدست کو مہلت دینے والے شخص سے فرمایا’’ میں تجھ سے زیادہ معاف کرنے کا حقدار ہوں اے فرشتو! میرے اس بندے سے درگزر کرو ۔ (مسلمکتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب فضل انظار المعسر ص۸۴۴ الحدیث: ۲۹(۱۵۶۰)) امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اور مجوسی قرضدار: امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’منقول ہے کہ ایک مجوسی پر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کچھ مال قرض تھا۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے قرض کی وصولی کے لئے ا س مجوسی کے گھر کی طرف گئے۔ جب اس کے گھر کے دروازے پر پہنچے تو (اتفاق سے) اپ رضی اللہ تعالی عنہ کے جوتے پر نجاست لگ گئی۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے (نجاست چھڑانے کی غرض سے) اپنے جوتے کو جھاڑا تو اپ رضی اللہ تعالی عنہ کے ا س عمل کی وجہ سے کچھ نجاست اڑ کر مجوسی کی دیوار کو لگ گئی۔ یہ دیکھ کر اپ پریشان ہو گئے اور فرمایا کہ اگر میں نجاست کو ایسے ہی رہنے دوں تو اس سے اس مجوسی کی دیوار خراب ہو رہی ہے اور اگر میں اسے صاف کرتا ہوں تو دیوار کی مٹی بھی اکھڑے گی ۔ اسی پریشانی کے عالم میں اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دروازہ بجایا تو ایک لونڈی باہر نکلی۔ اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا: اپنے مالک سے کہو کہ ابو حنیفہ دروازے پر موجود ہے۔ وہ مجوسی اپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایا اور ا س نے یہ گمان کیا کہ اپ اپنے قرض کا مطالبہ کریں گے اس لئے اس نے اتے ہی ٹال مٹول کرنا شروع کر دی۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سے فرمایا: مجھے یہاں تو قرض سے بھی بڑا معاملہ در پیش ہے پھر اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیوار پر نجاست لگنے والا واقعہ بتایا اور پوچھا کہ اب دیوار صاف کرنے کی کیا صورت ہے (یہ سن کر) اس مجوسی نے عرض کی :میں (دیوارکی صفائی کرنے کی) ابتداء اپنے اپ کو پاک کرنے سے کرتا ہوں اور اس مجوسی نے اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ (تفسیر کبیر الفصل الرابع فی تفسیر قولہ: مالک یوم الدین ۱ / ۲۰۴) قرض کی ادائیگی کے لئے دعا: حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک مکاتب غلام آیا اور عرض کی میں اپنی کتابت (کا مال) اداء کرنے سے عاجز آگیا ہوں میری کچھ مدد فرمائیے۔اپ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا کیا میں تجھے وہ کلمے نہ سکھادوں جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے سکھائے تھے (اور ان کلمات کی برکت یہ ہے کہ ) اگر تجھ پر پہاڑ برابر بھی قرض ہو تو اللہ تعالی تجھ سے ادا کرا دے ۔تم یہ پڑھا کرو ’’اللہم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک‘‘ یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے حلال کے ذریعے اپنے حرام سے تو کافی ہوجا اورمجھے اپنی مہربانی سے اپنے سوا سے بے پرواہ کردے۔(ترمذی احادیث شتی ۱۱۰- باب ۵ / ۳۲۹ الحدیث: ۳۵۷۴)