Surah Al Baqarah Ayat 79 (2:79)
The Cow · Juz 1 · Madani
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْۗ-ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًاؕ-فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ 79
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں : یہ خداکی طرف سے ہے کہ اس کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں توان لوگوں کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے ہوئے کی وجہ سے ہلاکت ہے اور ان کے لئے ان کی کمائی کی وجہ سے تباہی و بربادی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو خرابی ہے ان کے لئے جو کتاب اپنے ہاتھ سے لکھیں پھر کہہ دیں یہ خدا کے پاس سے ہے کہ اس کے عوض تھوڑے دام حاصل کریں تو خرابی ہے ان کے لیے ان کے ہاتھوں کے لکھے سے اور خرابی ان کے لئے اس کمائی سے۔
Tafseer (Urdu)
{فویل: تو بربادی ہے۔ }جب سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف فرما ہوئے تو علماء توریت اورسرداران یہود کو قوی اندیشہ ہوگیا کہ ان کی روزی جاتی رہے گی اور سرداری مٹ جائے گی کیونکہ توریت میں حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حلیہ اور اوصاف مذکور ہیں جب لوگ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس کے مطابق پائیں گے توفورا ایمان لے آئیں گے اور اپنے علماء اور سرداروں کو چھوڑ دیں گے اس اندیشہ سے انہوں نے توریت میں تحریف و تغییر کر ڈالی اور حلیہ شریف بدل دیا۔ مثلا توریت میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے اوصاف یہ لکھے تھے کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خوب صورت ہیں بال خوب صورت آنکھیں سرمگیں قد درمیانہ ہے۔ اس کو مٹا کر انہوں نے یہ بتایا کہ وہ بہت دراز قد ہیں آنکھیں کنجی نیلی بال الجھے ہوئے ہیں۔ یہی عوام کو سناتے یہی کتاب الہی کا مضمون بتاتے اور سمجھتے کہ لوگ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اس کے خلاف پائیں گے تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان نہ لائیں گے بلکہ ہمارے گرویدہ رہیں گے اور ہماری کمائی میں فرق نہ آئے گا۔(جمل البقرۃ تحت الایۃ: ۷۹ ۱ / ۱۰۳-۱۰۴ خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۷۹ ۱ / ۶۶) اس پر فرمایا گیا کہ بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے تورات میں من گھڑت باتیں لکھتے ہیں اورپھر کہتے ہیں کہ یہ بھی خداعزوجل کی طرف سے ہے اور یہ اللہ تعالی کی کتاب میں تحریف صرف اس لئے کرتے ہیں کہ اس کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں۔ توان لوگوں کے لئے ان کے ہاتھوں کے لکھے ہوئے کی وجہ سے اور ان کی کمائی کی وجہ سے تباہی و بربادی ہے۔