Surah Al Baqarah Ayat 8 (2:8)
The Cow · Juz 1 · Madani
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَﭥ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ ایمان والے نہیں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و من الناس من یقول:اورکچھ لوگ کہتے ہیں۔} اس سے پہلی ایات میں مخلص ایمان والوں کا ذکر کیاگیا جن کا ظاہر و باطن درست اور سلامت تھاپھر ان کافروں کا ذکر کیا گیا جو سرکشی اور عناد پر قائم تھے اور اب یہاں سے لے کرایت نمبر20 تک منافقوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے جو کہ اندرون خانہ کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زبانوں سے اس طرح کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی پر اوراخرت کے دن پر ایمان لے ائے ہیں حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں کیونکہ ان کا ظاہر ان کے باطن کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ منافق ہیں۔(روح البیان البقرۃ تحت الایۃ: ۸ ۱ / ۵۱) اس ایت سے چند باتیں معلوم ہوئیں : (1)…جب تک دل میں تصدیق نہ ہو اس وقت تک ظاہری اعمال مومن ہونے کے لیے کافی نہیں۔ (2)… جو لوگ ایمان کا دعوی کرتے ہیں اور کفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب منافقین ہیں۔ (3)… یہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے کھلے کافروں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ {و من الناس:اورکچھ لوگ۔}منافقوں کو ’’کچھ لوگ‘‘کہنے میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات اور انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتابلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں۔ اسی لئے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو محض انسان یا صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنے میں ان کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے لہذا اس سے اجتناب لازم ہے۔اگراپ قرآن پاک مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنا کفار کاطریقہ ہے جبکہ مسلمان انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا تذکرہ عظمت و شان سے کرتے ہیں۔