Surah Al Baqarah Ayat 97 (2:97)
The Cow · Juz 1 · Madani
قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ 97
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے محبوب!تم فرمادو :جو کوئی جبرئیل کا دشمن ہو(توہو)پس بیشک اس نے توتمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ اتارا ہے، جو اپنے سے پہلے موجود کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہے اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو اس نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت و بشارت مسلمانوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{من كان عدوا: جو دشمن ہو۔} شان نزول: یہودیوں کے ایک گروہ نے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا: آپ کے پاس آسمان سے کون فرشتہ آتا ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام اتے ہیں۔ابن صوریا یہودی پیشوا نے کہا: وہ ہمارا دشمن ہے عذاب شدت اور زمین میں دھنسانا وہی اتارتا ہے اور پہلے بھی کئی مرتبہ ہم سے دشمنی کر چکا ہے اگر آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے پاس حضرت میکائیل علیہ السلام آتے تو ہم آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ایمان لے آتے۔(قرطبی البقرۃ تحت الایۃ: ۹۷ ۱ / ۲۸ الجزء الثانی خازن البقرۃ تحت الایۃ: ۹۷ ۱ / ۷۱) یہودیوں کی یہ بات سراسر جہالت تھی کیونکہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تو جو چیز بھی لائے وہ اللہ تعالی کے حکم سے تھی تو حقیقت میں یہ اللہ تعالی سے دشمنی تھی بلکہ اگر یہودی انصاف کرتے تو حضرت جبر یل امین علیہ السلام سے محبت کرتے اور ان کے شکر گزار ہوتے کہ وہ ایسی کتاب لائے جس سے ان کی کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے۔