Surah Taha Ayat 29 (20:29)
Ta-Ha · Juz 16 · Makki
وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور میرے لئے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔
Tafseer (Urdu)
{و اجعل لی وزیرا من اهلی:اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی چھ ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے مزید عرض کی: میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کر دے جو میرا معاون اور معتمد ہواور وہ میرا بھائی ہارون ہو اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما اور اسے رسالت کی تبلیغ اور نبوت کے کام میں میرا شریک کردے تاکہ ہم بکثرت تیری پاکی بیان کریں اور نمازوں میں اور نمازوں کے علاوہ بھی بکثرت تیرا ذکر کریں بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہمارے احوال کو جانتا ہے۔( مدارک طہ تحت الایۃ: ۲۹-۳۵ ص۶۹۰ خازن طہ تحت الایۃ: ۲۹-۳۵ ۳ / ۲۵۳ ملتقطا) سورہ طہ کی ایت نمبر 29 تا 35 سے حاصل ہونے والی معلومات: ان ایات سے8 باتیں معلوم ہوئیں : (1)… اللہ تعالی کی بارگاہ میں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا مقام اتنا بلند ہے کہ اللہ تعالی نے ان کی دعا سے ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام کو نبوت جیسا عظیم منصب عطا فرما دیا۔ (2)… اپنے عزیز کو اپنا جانشین بنا نا حرام نہیں اصل مدار اہلیت پر ہے اگر اولاد اہل ہے تو اسے جانشین بنانا درست ہے کہ اہل ادمی کا اولاد ہونا کوئی ایسا جرم نہیں کہ اسے جانشین نہ بنایا جاسکے ہاں کسی خارجی وجہ سے یہ فعل نہ کیا جائے تو وہ جدا بات ہے۔ اس معاملے میں لوگوں کی اراء میں بہت افراط و تفریط پایا جاتا ہے لہذا انہیں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ (3)… اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے قوت اور مدد حاصل کرنا نہ توکل کے خلاف ہے اور نہ توحید کے منافی ہے۔ (4)…بہترین اور قابل لوگوں کی صحبت اختیار کرنا اور انہیں اپنا وزیر بنانا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا پسندیدہ عمل ہے۔ (5)…اپنی رائے کو حرف اخر سمجھنا اور اپنی قوت و شوکت پر غرور کرنا درست نہیں ہے۔ (6)…جو چیز اپنے لئے پسند ہو وہی اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرنی چاہئے۔ (7)…نیکیاں زیادہ کرنے کے معاملے میں نیک ادمی کی صحبت اختیار کرنے کا بڑا عمل دخل ہے۔ (8)… اللہ تعالی کا ذکر جماعت کے ساتھ مل کر کرنا اور بزرگوں کے پاس بیٹھ کرکرنا بہت افضل ہے۔