Surah Al Anbiya Ayat 10 (21:10)
The Prophets · Juz 17 · Makki
لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ كِتٰبًا فِیْهِ ذِكْرُكُمْؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارا چرچا ہے۔ تو کیا تمہیں عقل نہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب اتاری جس میں تمہاری ناموری ہے تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{لقد انزلنا الیكم كتبا:بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی ۔}ارشاد فرمایا کہ اے قریش کے گروہ! ہم نے تمہاری طرف ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارا شرف اور تمہاری عزت ہے کیونکہ وہ تمہاری زبان اور تمہاری لغت کے مطابق ہے توتم ا س کتاب سے کیسے منہ پھیر سکتے ہو حالانکہ غیرت اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کتاب کی اور اس نبی کی تعظیم کرو جو اسے لے کر ائے ہیں اور اس پر سب سے پہلے ایمان لانے والے ہو جاوکیا تم جاہل ہو اور تمہیں عقل نہیں کہ ایمان لا کر اس عزت و کرامت اور سعادت کو حاصل کرو۔( ابوسعود الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۵۰۷ صاوی الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰ ۴ / ۱۲۹۲ ملتقطا) اس ایت میں مذکور لفظ ’’فیه ذكركم‘‘ کے مفسرین نے اور معنی بھی بیان کئے ہیں جیسے ایک معنی یہ ہے کہ ’’اس میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور ایک معنی یہ ہے کہ’’ اس میں تمہارے دینی اور دنیوی امور اور حاجات کا بیان ہے۔( مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰ ص۷۱۱) قران مجید کی تعلیمات سے منہ پھیرنے کا انجام: اس ایت سے معلوم ہوا کہ قران کریم پر ایمان لانا اور ا س کے احکامات و تعلیمات پر عمل کرنا عزت و شہرت کا باعث ہے اورتاریخ اس بات پر گواہ ہے جب تک مسلمانوں نے قران مجید کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھا اور اس کی ہدایات و احکامات پر کامل طریقے سے عمل کیا تب تک وہ شہرت و ناموری اور عزت و کرامت کی بلندیوں پر فائز رہے اورہر میدان میں کفار پر غلبہ و نصرت اور کامیابی حاصل کرتے رہے اور جب سے مسلمان قران عظیم کی تعلیمات پر عمل سے دور ہونا شروع ہوئے تب سے ان کی عزتشہرتناموری اور دبدبہ ختم ہونا شروع ہو گیا اور رفتہ رفتہ کفار مسلمانوں پر غالب ہونا شروع ہو گئے اور اب مسلمانوں کا حال یہ ہو گیا ہے کہ جہاں بن پڑا وہاں کفار مسلمانوں کی سرزمین پر قابض ہیں اور جہاں نہیں بن پڑا وہاں مسلمانوں کی اقتصادیاتمعاشیات اور در پردہ مسلمانوں کی ذہنیت سوچ اور کلچر پر قابض ہیں اور مسلم حکمرانوں کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچا رہے ہیں ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر اور ہم خوار ہوئے تارک قراں ہو کر اور درس قراں گر ہم نے نہ بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا