Surah Al Anbiya Ayat 105 (21:105)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے نصیحت کے بعد زبور میں لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد كتبنا فی الزبور من بعد الذكر:اور بیشک ہم نے نصیحت کے بعد زبورمیں لکھ دیا۔} ایک قول یہ ہے کہ اس ایت میں زبور سے وہ تمام کتابیں مراد ہیں جو انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے اور ایت کا معنی یہ ہے کہ لوح محفوظ میں لکھنے کے بعد ہم نے تمام اسمانی کتابوں میں لکھ دیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ زبور سے وہ اسمانی کتاب مراد ہے جوحضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام پرنازل ہوئی اور ذکر سے مراد تورات ہے اور ایت کا معنی یہ ہے کہ تورات میں لکھنے کے بعد زبور میں لکھ دیا۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۵ ۳ / ۲۹۷ مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۵ ص۷۲۸ ملتقطا) {ان الارض یرثها عبادی الصلحون:کہ اس زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔} اس زمین سے مراد جنت کی زمین ہے جس کے وارث اللہ تعالی کے نیک بندے ہوں گے ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ اس سے کفار کی زمینیں مراد ہیں جنہیں مسلمان فتح کریں گے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے شام کی زمین مراد ہے جس کے وارث اللہ تعالی کے وہ نیک بندے ہوں گے جو اس وقت شام میں رہنے والوں کے بعد ائیں گے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۱۰۵ ۳ / ۲۹۷)