Surah Al Anbiya Ayat 17 (21:17)
The Prophets · Juz 17 · Makki
لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ لَهْوًا لَّاتَّخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ ﳓ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْنَ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگر ہم کوئی کھیل ہی اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے ہی اختیار کرلیتے اگر ہمیں کرنا ہوتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاگر ہم کوئی بہلاوا اختیار کرنا چاہتے تو اپنے پاس سے اختیار کرتے اگر ہمیں کرنا ہوتا۔
Tafseer (Urdu)
{لو اردنا ان نتخذ لهوا:اگر ہم کوئی کھیل ہی اختیار کرنا چاہتے ۔}یعنی اگر ہم اسمان و زمین اور ان کے درمیان موجود اشیاء کو کسی حکمت کے بغیر بے مقصد بنا کر کسی ایسی چیز کو اختیار کرنا چاہتے جس سے کھیلا جائے تو ہم ان کی بجائے اپنے پاس سے ہی کسی چیز کو اختیار کر لیتے لیکن یہ الوہیت کی شان اور حکمت کے منافی ہونے کی وجہ سے ہمارے حق میں محال ہے لہذا ہمارا کھیل کے لئے کسی چیز کو اختیار کرنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت میں کھیل سے مراد بیوی اور بیٹا ہے اور یہ ایت ان عیسائیوں کے رد میں ہے جو حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکو معاذ اللہ اللہ تعالی کی بیوی اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی کا بیٹا کہتے ہیں چنانچہ اس قول کے مطابق ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالی بیوی اور بیٹا اختیار کرنا چاہتا تو وہ انسانوں میں سے نہ کرتا بلکہ اپنے پاس موجود حور عین اور فرشتوں میں سے کسی کو بیوی اور بیٹا بنا لیتا یونہی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہاکی طرح انہیں لوگوں کے پاس نہ رکھتا بلکہ اپنے پاس رکھتا کیونکہ بیوی اور بیٹے والے بیوی اوربیٹے اپنے پاس رکھتے ہیں لیکن چونکہ اللہ تعالی بیوی اور اولاد سے پاک ہے نہ یہ اس کی شان کے لائق ہے اور نہ اس کے حق میں یہ کسی طرح ممکن ہے اس لئے اللہ تعالی نے ایسا کیا ہی نہیں ۔( ابو سعود الانبیاء تحت الایۃ: ۱۷ ۳ / ۵۰۹ تفسیر کبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۱۷ ۸ / ۱۲۵ خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۱۷ ۳ / ۲۷۳ ملتقطا) {بل نقذف بالحق على الباطل:بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں ۔}یعنی ہماری شان یہ نہیں کہ ہم کھیل کے لئے کوئی چیز اختیار کریں بلکہ ہماری شان تو یہ ہے کہ ہم حق کو باطل پر غالب کر تے ہیں تو وہ باطل کوپورا مٹادیتا ہے اوراسی وقت باطل مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور اے کافرو! تمہارے لئے ان باتوں کی وجہ سے بربادی ہے جو تم اللہ تعالی کی شان میں کرتے ہو اور اس کے لئے بیوی اور بچہ ٹھہراتے ہو۔( ابو سعود الانبیاء تحت الایۃ: ۱۸ ۳ / ۵۰۹)