Surah Al Anbiya Ayat 38 (21:38)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ 38
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کہتے ہیں : اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب ہوگا ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہتے ہیں کب ہوگا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و یقولون:اور کہتے ہیں ۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین نے جلدی مچاتے اور مذاق اڑاتے ہوئے کہا :اے مسلمانوں کے گروہ! اگر تم سچے ہوتو عذاب یا قیامت کا یہ وعدہ کب پورا ہو گا ارشاد فرمایا گیا کہ اگر کافر اس وقت کو جان لیتے جب وہ اپنے چہروں سے اور اپنی پیٹھوں سے دوزخ کی اگ کو نہ روک سکیں گے اور نہ ان کی مددکی جائے گی تو وہ کفر پر قائم نہ رہتے اور عذاب طلب کرنے میں جلد ی نہ کرتے۔ (قرطبی الانبیاء تحت الایۃ : ۳۸-۳۹ ۶ / ۱۶۱ الجزء الحادی عشر تفسیر کبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۳۸-۳۹ ۸ / ۱۴۵-۱۴۶ خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳۸-۳۹ ۳ / ۲۷۷ ملتقطا) نیز کفار کو اپنے عذاب کا حقیقی علم ہوجاتا تو قیامت کا وقت نہ پوچھتے بلکہ اس کیلئے تیاری کرتے۔ { بل تاتیهم بغتة:بلکہ وہ ان پر اچانک آپڑے گی ۔} کفار کے طلب کردہ عذاب کی شدت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ کفار کو اس کے انے کا وقت معلوم نہیں بلکہ وہ قیامت ان پر اچانک آپڑے گی تو انہیں حیران کردے گی پھر نہ وہ اسے کسی حیلے سے ردکرسکیں گے اور نہ انہیں توبہ و معذرت کی مہلت دی جائے گی۔( تفسیرکبیر الانبیاء تحت الایۃ: ۴۰ ۸ / ۱۴۶)