Surah Al Anbiya Ayat 37 (21:37)
The Prophets · Juz 17 · Makki
خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآدمی جلد باز بنایا گیا اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو۔
Tafseer (Urdu)
{خلق الانسان من عجل:آدمی جلد باز بنایا گیا۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ جلد بازی کی زیادتی اور صبر کی کمی کی وجہ سے گویا انسان بنایا ہی جلد بازی سے گیا ہے یعنی جلد بازی انسان کا خمیر ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جلد بازی کو انسان کی فطرت اور اخلاق میں پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں ایت میں انسان سے کون مراد ہے اس کے بارے میں مفسرین کے تین قول ہیں : (1) اس سے انسان کی جنس مراد ہے ۔ (2) یہاں انسان سے مراد نضر بن حارث ہے ۔ (3) اس ایت میں انسان سے مراد حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔( روح المعانی الانبیاء تحت الایۃ: ۳۷ ۹ / ۶۴-۶۵) {ساوریكم ایتی:اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا۔} شان نزول: جب نضر بن حارث نے جلد عذاب نازل کرنے کامطالبہ کیا تواس کے بارے میں یہ ایت نازل ہوئی اور فرمایاگیاکہ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا۔ ان نشانیوں سے عذاب کے وہ وعدے مراد ہیں جو مشرکین کو دئیے گئے تھے ان وعدوں کا وقت قریب آ گیا ہے لہذا انہیں چاہئے کہ وقت سے پہلے ان کا مطالبہ نہ کریں ۔چنانچہ دنیا میں بدر کے دن وہ منظر ان کی نگاہوں کے سامنے آ گیا اور اخرت میں وہ جہنم کا عذاب دیکھیں گے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۳۷ ۳ / ۲۷۷ روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۳۷ ۵ / ۴۸۰ ملتقطا) حضور اقدسصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلمکی گستاخی کا انجام: علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس مقام پر ’’تاویلات نجمیہ‘‘ کے حوالے سے ایک بہت پیارا نکتہ بیان کیا ہے کہ (گویا اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا) اے کافرو! تم اپنی جہالت و گمراہی کی وجہ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی مچا رہے ہو کیونکہ تم نے مذاق اڑا کر اور دشمنی کر کے میرے حبیب اور میرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔ (میرے اولیاء کا میری بارگاہ میں یہ مقام ہے کہ ) جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو اس نے مجھ سے جنگ کا اعلان کر دیا اور بے شک اس نے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر لی کیونکہ میں اپنے اولیاء کی وجہ سے شدید غضب فرماتا ہوں اور جو بد بخت میرے حبیب اور میرے نبی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دشمنی کرے تو اس کا انجام کیا ہو گا۔( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۳۷ ۵ / ۴۸۱) اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبر ت ہے جو حضور پر نورصلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے بے ادبانہ انداز اپنا کر اپ کی سیرت اور سنتوں کا مذاق اڑا کراپ کے اعمال کو ہدف تنقید بنا کراپ کے صحابہ کرام اور ال اولاد پر انگشت اعتراض اٹھا کر الغرض کسی بھی طریقے سے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے اذیت اور تکلیف کاباعث بنتے ہیں ۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت عطا فرمائے۔ جلد بازی کی مذمت اور مستقل مزاجی کی اہمیت: اس ایت سے معلوم ہو اکہ جلد بازی ایسی بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اپنی ہلاکت و بربادی اور عبرتناک موت تک کا مطالبہ کر بیٹھتا ہے اور یہ جلد بازی کا ہی نتیجہ ہے کہ انسان اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھ بیٹھتا ہے اور وہ کوئی عملی قدم اٹھانے سے پہلے ا س کے اچھے اوربرے پہلووں پر غور نہیں کر پاتا اوریوں اکثر وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مستقل مزاج اور سکون و اطمینان سے کام کرنے والاادمی اپنے مقصد کو پا لیتا ہے اور نقصان سے بھی بچ جاتا ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب تم نے بردباری سے کام لیا تو اپنے مقصد کو پالیا یا عنقریب پا لوگے اور جب تم نے جلدبازی کی تو تم خطا کھاجاو گے یا ممکن ہے کہ تم سے خطا سرزد ہوجائے۔(السنن الصغری کتاب اداب القاضی باب التثبت فی الحکم ۲ / ۶۱۰ الحدیث: ۴۴۹۹) حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو جلدی کرتا ہے وہ خطا میں پڑتا ہے۔ (نوادر الاصول الاصل الحادی والستون والمائتان ۲ / ۱۲۶۸ الحدیث: ۱۵۵۹) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جلد بازی سے بچے اور مستقل مزاجی کو اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ خیال رہے کہ چند چیزوں میں جلد ی اچھی ہے جیسے گناہوں سے توبہ نماز کی ادائیگی جب کفومل جائے تو لڑکی کی شادی اور میت کی تجہیز و تکفین کرنے میں جلدی کرنا ۔ ([1]) [1] ۔۔۔مستقل مزاجی کی اہمیت اور جلد بازی کے نقصانات سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’جلدبازی کے نقصانات‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں ۔