Surah Al Anbiya Ayat 45 (21:45)
The Prophets · Juz 17 · Makki
قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ ﳲ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: میں تم کو صرف وحی کے ذریعے ڈراتا ہوں اور بہرے پکار کو نہیں سنتے جب انہیں ڈرایا جائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قل:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کافروں سے فرما دیں کہ میرا کام یہ ہے کہ قران مجید میں میری طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کے ذریعے میں تمہیں اس عذاب سے ڈراوں جس کے انے کی تم جلدی مچا رہے ہو عذاب کولانا میرا کام نہیں ۔ ایت کے اخر میں کافروں کے متعلق فرمایا کہ جیسے بہروں کو کسی خطرے میں اواز دی جائے تو انہیں یہ اواز فائدہ نہیں دیتی کیونکہ ان میں کسی کی اواز سے نفع اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے اسی طرح کفار کی حالت ہے کہ انہیں عذاب کی وعیدیں فائدہ نہیں دیتیں کیونکہ انہوں نے ہدایت کی بات سننے سے خود کو بہرا کیا ہوا ہے۔ ایت’’قل انما انذركم بالوحی‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو مسئلے معلوم ہوئے۔ (1)… پیغمبر پر احکام سنا دینا لازم ہے دل میں اتارنا لازم نہیں کہ یہ خدا کا کام ہے۔ (2)… جو وعظ سے نفع حاصل نہ کرے وہ بہرا ہے یعنی دل کا بہرا ہے اگرچہ بظاہر اس میں سننے کی قوت موجود ہو۔