Surah Al Anbiya Ayat 44 (21:44)
The Prophets · Juz 17 · Makki
بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُؕ-اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ-اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو فائدہ اٹھانے دیایہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوگئی تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں۔ تو کیا یہ غالب ہوں گے ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں تو کیا یہ غالب ہوں گے ۔
Tafseer (Urdu)
{بل متعنا هؤلآء و ابآءهم:بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادا کوفائدہ اٹھانے دیا۔} ارشاد فرمایا: بلکہ ہم نے ان کفار کو اور ان کے باپ دادا کو فائدہ اٹھانے دیا اور دنیا میں انہیں نعمت و مہلت دی یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوگئی اور وہ اس سے اور زیادہ مغرور ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے تو کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم کفرستان کی زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں اور روز بروز مسلمانوں کو اس پر تسلط دے رہے ہیں اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے حدود اسلام بڑھ رہی ہیں اورکفر کی سرزمین گھٹتی چلی آتی ہے اور مکہ مکرمہ کے قریبی علاقوں پر مسلمانوں کا تسلط ہوتا جارہا ہے کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس کو نہیں دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے تو کیا یہ غالب ہوں گے جن کے قبضہ سے زمین دمبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے اصحاب جو اللہ تعالی کے فضل سے فتح پر فتح پا رہے ہیں اور ان کے مقبوضہ علاقے رفتہ رفتہ بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۴۴ ۳ / ۲۷۸ مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۴۴ ص۷۱۷ ملتقطا) غفلت و عذاب کا عمومی سبب: اس سے معلوم ہوا کہ لمبی عمر مال کی زیادتی اور زیادہ ارام عموما غفلت اور اللہ تعالی کے عذاب کا سبب بن جاتے ہیں اور یہی چیزیں جب نیکیوں میں صرف ہوں تو اللہ تعالی کی رحمت بن جاتی ہیں جیسے شیطان کی لمبی عمر اس کے لئے زیادہ عذاب کا باعث ہے اور حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی دراز عمر شریف عین رحمت پروردگار ہے۔ پہلے کافروں اور اب مسلمانوں پر زمین کے کناروں کی کمی: ابتداء اسلام میں مسلمان چونکہ قران مجید کے احکامات اور ا س کی تعلیمات پر کامل طریقے سے عمل پیرا تھے اور انہوں نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت وپیروی کو مضبوطی سے تھاما ہو اتھا جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے مسلمانوں پر یہ انعام فرمایا کہ کفار کی ابادیوں بستیوں شہروں اور ملکوں پران کاغلبہ ختم کرکے مسلمانوں کو قبضہ عطا کر دیا اور رفتہ رفتہ روم اور ایران کی طاقتور ترین سلطنتیں مسلمانوں کے تسلط میں ا گئیں عراق اور مصر کی سر زمین پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا افریقی ممالک اور اندلس کے شہر مسلمانوں کے اقتدار میں ا گئے اور دنیا کے ایک تہائی حصے پر دین اسلام کا پرچم لہرانے لگا ۔ صدیوں تک مسلمانوں کا یہی حال رہا اور اس عرصے میں مسلمان علمی فنی حربی اور تعمیری میدان میں ترقی در ترقی کرتے رہے اور یہ دور مسلمانوں کی خوشحالی اور ترقی کا زریں دور رہا۔ پھر جب مسلمان قران مجید کے احکامات اور اس کی تعلیمات پر عمل سے دور ہونے لگے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری سے رو گردانی شروع کر دی عیش و عشرت کی بزم گرم کرنے اور رقص و سرور کی محفل سجانے لگ گئے ایک دوسرے سے اقتدار چھیننے میں مصروف ہوئے اور اقتدار کے حصول کی خاطر اسلام کے دشمنوں کو اپنا مددگار بنانے اور ان سے مدد حاصل کرنے لگ گئے تو ا س کا انجام یہ ہوا کہ ان کی ملی وحدت پارہ پارہ ہونا شروع ہو گئی اور اہستہ اہستہ مسلمانوں کے مفتوحہ علاقے کفار کے قبضے میں انے لگ گئے اسلامی سلطنت کی حدود سمٹنے لگ گئیں اور اب دنیا بھر میں مسلمانوں کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اگر اج بھی مسلمان اپنے ماضی سے سبق نہ سیکھیں گے تو کوئی بعید نہیں کہ مسلمانوں کا رہا سہا غلبہ و اقتدار بھی ان سے چھن جائے۔