Surah Al Anbiya Ayat 71 (21:71)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے اسے اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات عطا فرمائی جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے اسے اور لوط کو نجات بخشی اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی۔
Tafseer (Urdu)
{و نجینه و لوطا:اور ہم نے اسے اور لوط کو نجات عطا فرمائی ۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کو نمرود اور ا س کی قوم سے نجات عطا فرمائی اور انہیں عراق سے اس سرزمین کی طرف روانہ کیا جس میں ہم نے جہان والوں کے لیے برکت رکھی تھی۔(خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۷۱ ۳ / ۲۸۳) حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کا مختصر تعارف: حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بھتیجے تھے اپ کے والد کا نام ہاران ہے اوریہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا بھائی تھا ۔جب یہ دونو ں حضرات ملک شام پہنچے تو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام فلسطین کے مقام پر ٹھہرے اور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام نے مؤتفکہ میں قیام فرمایا اور ان دونوں مقامات میں ایک دن کی مسافت کا فاصلہ ہے۔(جلالین الانبیاء تحت الایۃ: ۷۱ ص۲۷۴) برکت والی سرزمین: اس سر زمین سے شام کی زمین مراد ہے اور اس کی برکت یہ ہے کہ یہاں کثرت سے انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام ہوئے اور تمام جہان میں ان کے دینی برکات پہنچے اور سرسبزی و شادابی کے اعتبار سے بھی یہ خطہ دوسرے خطوں پر فائق ہے یہاں کثرت سے نہریں ہیں پانی پاکیزہ اور خوش گوار ہے اور درختوں پھلوں کی کثرت ہے۔( مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۷۱ ص۷۲۱ جلالین الانبیاء تحت الایۃ: ۷۱ ص۲۷۴ ملتقطا)