Surah Al Anbiya Ayat 73 (21:73)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ جَعَلْنٰهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِۚ-وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَ 73
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے انہیں امام بنایا کہ ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے ہیں اور ہم نے ان کی طرف اچھے کام کرنے اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی اور وہ ہماری عبادت کرنے والے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے انہیں امام کیا کہ ہمارے حکم سے بلاتے ہیں اور ہم نے انہیں وحی بھیجی اچھے کام کرنے اور نماز برپا رکھنے اور زکوٰۃ دینے کی اور وہ ہماری بندگی کرتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنهم اىمة:اور ہم نے انہیں امام بنایا۔} ارشاد فرمایا :ہم نے انہیں امام بنایا کہ بھلائی کے کاموں میں ان کی پیروی کی جاتی ہے اور وہ ہمارے حکم سے لوگوں کوہمارے دین کی طرف بلاتے ہیں اور ہم نے ان کی طرف اچھے کام کرنے نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کی وحی بھیجی کیونکہ نماز بدنی عبادات میں سب سے افضل ہے اور زکوۃ مالی عبادات میں سب سے افضل ہے اور وہ صرف ہماری عبادت کرنے والے تھے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۷۳ ۳ / ۲۸۳) انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام پر زکوۃ فرض نہیں : یاد رہے کہ انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کو امتیوں پر یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کے مال پر زکوۃ فرض نہیں ہوتی۔ چنانچہ علامہ احمد طحطاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ۔انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام پر زکوۃ واجب نہیں کیونکہ ان کا سب کچھ اللہ تعالی کی ملک ہے اور جو کچھ ان کے قبضے میں ہے وہ امانت ہے اور یہ اسے خرچ کرنے کے مقامات پر خرچ کرتے ہیں اور غیر محل میں خرچ کرنے سے رکتے ہیں اور ا س لئے کہ زکوۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گناہوں کی گندگی سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام معصوم ہونے کی وجہ سے گناہوں کی گندگی سے پاک ہیں ۔( حاشیہ الطحطاوی علی المراقی کتاب الزکاۃ ص۷۱۳) علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ در مختار کی اس عبارت’’اس پر اجماع ہے کہ انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام پر زکوۃ واجب نہیں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں ’’ کیونکہ زکوۃ اس کے لئے پاکی ہے جو گندگی( یعنی مال کے میل) سے پاک ہونا چاہے جبکہ انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام اس سے بری ہیں ۔ (یعنی ان کے مال ابتدا سے ہی میل سے پاک ہیں ۔)( رد المحتار علی الدر المختار کتاب الزکاۃ ۳ / ۲۰۲) لہذا جن ایات میں انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کو زکوۃ دینے کا فرمایا گیا ان سے یا تو تزکیہ نفس یعنی نفس کو ان چیزوں سے پاک رکھنا مراد ہے جو شان نبوت کے خلاف ہیں یاان سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی امت کو زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پر اللہ تعالی کے احسانات: خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام پرطرح طرح کے احسانات فرمائے پہلا تو یہ کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بچپن سے ہی رشد وہدایت سے نوازا۔ دوسرا یہ کہ ظالم وجابر بادشاہ کے مقابلہ میں اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو غلبہ عطا فرمایا۔ تیسرا یہ کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کے شہر کی طرف ہجرت کروائی چوتھا یہ کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کونیک صالح اولاد عطا کی اور پانچواں یہ کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد کوبھی نبوت عطاکی ۔