Surah Al Anbiya Ayat 89 (21:89)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ 89
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا ، اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث۔
Tafseer (Urdu)
{و زكریا اذ نادى ربه:اور زکریا کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا۔} یہاں سے حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا کی کہ اے میرے رب! عزوجل مجھے بے اولاد نہ چھوڑ بلکہ وارث عطا فرما اور تو سب سے بہتر وارث ہے یعنی اللہ تعالی مخلوق کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تو مجھے وارث نہ دے تو بھی کچھ غم نہیں کیونکہ تو بہتر وارث ہے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۸۹ ۳ / ۲۹۳ مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۸۹ ص۷۲۵ ملتقطا) حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے معلوم ہونے والی باتیں : اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ۔ (1)… دین کی خدمت کے لئے بیٹے کی دعا اور فرزند کی تمنا کرنی سنت نبی ہے۔ (2)… جیسی دعا مانگے اسی قسم کے نام سے اللہ تعالی کو یاد کرے۔چونکہ ان کافرزند ان کے کمال کا وارث ہونا تھا لہذا رب عزوجل کو وارث کی صفت سے یاد فرمایا۔