Surah Al Anbiya Ayat 90 (21:90)
The Prophets · Juz 17 · Makki
فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ٘-وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًاؕ-وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ 90
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لیے اس کی بیوی کو قابل بنا دیا۔ بیشک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور ہمارے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا فرمایا اور اس کے لئے اس کی بی بی سنواری بیشک وہ بھلے کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں پکارتے تھے امید اور خوف سے اور ہمارے حضور گڑگڑاتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فاستجبنا له:تو ہم نے اس کی دعا قبول کی۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا قبول کی اور انہیں سعادت مند فرزند حضرت یحیی علیہ الصلوۃ والسلام عطا فرمایا اورحضرت زکریا علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اپ کی زوجہ کا بانجھ پن ختم کر کے اسے اولاد پیدا کرنے کے قابل بنا دیا۔( مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۹۰ ص۷۲۵) {انهم كانوا یسرعون فی الخیرت:بیشک وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے۔} یعنی جن انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام کا ذکر ہوا ان کی دعائیں اس وجہ سے قبول ہوئیں کہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور اللہ تعالی کو بڑی رغبت سے اور بڑے ڈر سے پکارتے تھے اور اللہ تعالی کے حضور دل سے جھکنے والے تھے۔(مدارک الانبیاء تحت الایۃ: ۹۰ ص۷۲۵) دعائیں قبول ہونے والا بننے کے لئے تین کام کئے جائیں : اس سے بخوبی معلوم ہوا کہ جو شخص ایسا ہونا چاہے کہ اس کی ہر دعا مقبول ہو اسے چاہئے کہ وہ یہ تین کام کرے (1) نیک کام کرنے میں دیر نہ لگائے۔ (2) امید اور خوف کے درمیان رہتے ہوئے ہر وقت اللہ تعالی سے دعائیں مانگے۔ (3) اللہ تعالی کی بارگاہ میں عاجزی اور انکساری کا اظہار کرے۔