Surah Al Anbiya Ayat 97 (21:97)
The Prophets · Juz 17 · Makki
وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ 97
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور سچا وعدہ قریب آگیا تو جبھی اس وقت کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کہ ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور قریب آیا سچا وعدہ تو جبھی آنکھیں پھٹ کر رہ جائیں گی کافروں کی کہ ہائے ہماری خرابی بیشک ہم اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے ۔
Tafseer (Urdu)
{و اقترب الوعد الحق:اور سچا وعدہ قریب اگیا۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ جب قیامت قائم ہو گی تواس وقت اس دن کی ہولناکی اور دہشت سے کافروں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی اور وہ کہیں گے کہ ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم دنیا کے اندر اس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم اپنی جانوں پرظلم کرنے والے تھے کہ رسولوں کی بات نہ مانتے تھے اور انہیں جھٹلاتے تھے۔( خازن الانبیاء تحت الایۃ: ۹۷ ۳ / ۲۹۵ جلالین الانبیاء تحت الایۃ: ۹۷ ص۲۷۷ ملتقطا) کفار کے انجام میں عبرت و نصیحت: اس ایت میں کفار کا جو حال بیان کیا گیا اس میں ہر عقلمند انسان کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے کہ دنیا میں اللہ تعالی نے قران مجید اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ذریعے تمام لوگوں کو اپنی رحمت و انعام اور اس کے حق داروں کے بارے میں بشارت اور خبر دے دی اسی طرح اللہ تعالی نے اپنی پکڑ گرفت عذاب موت کی سختیوں اور قیامت و جہنم کی ہولناکیوں کے بارے میں بھی بتا دیا اور ان لوگوں کی بھی خبر دے دی جو ان میں مبتلاہوں گے اس کے باجود جو انسان غفلت سے کام لے اور دنیا میں اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت نہ کرے تو قیامت کے دن وہ لاکھ حیلے بہانے کر لے اور کتنے ہی عذر پیش کر دے ا س کا کوئی حیلہ اور عذر قبول نہ ہو گا۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں تمہارے پاس تمہارے مال طلب کرنے اور تم میں عزت و مرتبہ چاہنے نہیں ایا بلکہ اللہ تعالی نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجاہے اور مجھ پر ایک عظیم کتاب نازل فرمائی ہے اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمہارے لئے( اللہ تعالی کے ثواب کی) خوشخبری دینے والا اور ( اللہ تعالی کے عذاب سے) ڈرانے والا بنوں تو میں نے تم تک اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور تمہیں نصیحت کردی اب اگر تم اسے قبول کرو جسے میں تمہارے پاس لایا ہوں تو وہ تمہارے لئے دنیا و اخرت میں ایک حصہ ہے اور اگر تم اسے رد کر دو تو میں اللہ تعالی کے حکم کی وجہ سے صبر کروں گا یہاں تک کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی فیصلہ فرما دے۔( خلق افعال العباد باب ما جاء فی قول اللہ: بلغ ما انزل الیک من ربک ص۸۱) ایک بزرگ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ جنازے کے پیچھے میت پر بڑی شفقت کر رہے ہیں تو انہوں نے فرمایا ’’اگر تم اپنی جانوں پر رحم کھاو (یعنی میت سے زیادہ اپنے اوپر رحم کھاو) تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے کیونکہ جس کا جنازہ تم لے کر جا رہے ہو وہ فوت ہو گیا اور تین ہولناکیوں ملک الموت کو دیکھنے موت کی سختی اور مرنے کے خوف سے نجات پاگیا (جبکہ تمہیں ابھی ان تینوں ہولناکیوں کا سامنا کرنا ہے۔)( روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۹۷ ۵ / ۵۲۳)