Surah Al Hajj Ayat 26 (22:26)
The Pilgrimage · Juz 17 · Madani
وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْــٴًـا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْقَآىٕمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا صحیح مقام بتا دیا اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کیلئے خوب صاف ستھرا رکھو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانا ٹھیک بتادیا اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میرا گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لئے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ بوانا لابرهیم مكان البیت:اور یاد کرو جب ہم نے ابراہیم کو اس گھرکا صحیح مقام بتادیا۔} کعبہ معظمہ کی عمارت پہلے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام نے بنائی تھی اور جب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم پر طوفان ایا تو اس وقت وہ آسمان پر اٹھا لی گئی۔ پھر جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کوکعبہ شریف کی عمارت دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا تو اللہ تعالی نے اس کا مقام بتانے کے لئے ایک ہوا مقرر کی جس نے اس کی جگہ کو صاف کر دیا جہاں پہلے کعبہ معظمہ کی عمارت موجود تھی اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ایک بادل بھیجا جو خاص زمین کے اس حصے کے اوپر تھا جہاں پہلے کعبہ معظمہ کی عمارت تھی اس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو کعبہ شریف کی جگہ بتائی گئی اور آپ نے اس کی پرانی بنیاد پر کعبہ شریف کی عمارت تعمیر کی ۔(مدارک الحج تحت الایۃ: ۲۶ ص۷۳۶ خازن الحج تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۳۰۵ ملتقطا) { ان لا تشرك بی شیــٴـا:اور حکم دیا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ۔} کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف وحی فرمائی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں قیام کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کیلئے شرک سے بتوں سے اور ہر قسم کی نجاستوں سے خوب صاف ستھرا رکھو۔( خازن الحج تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۳۰۵) انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام شرک سے پاک ہیں : یاد رہے کہ انبیاءکرام علیہم الصلوۃ والسلام ایک ان کے لئے بھی شرک نہیں کرتے وہ شرک سے پاک ہیں اور گناہوں سے بھی معصوم ہیں اور اس ایت میں جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا گیا کہ ’’ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو‘‘اس سے یہ مراد نہیں کہ اپ معاذ اللہ شرک میں مبتلا تھے اور اللہ تعالی نے اپ کو ا س سے منع فرمایا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کی عبادت کرنا یا اس سے مراد یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے ساتھ کوئی دوسری غرض نہ ملانا۔( تفسیرکبیر الحج تحت الایۃ: ۲۶ ۸ / ۲۱۹) مسجد تعمیر کرنے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کے فضائل: اس ایت سے معلوم ہوا کہ مسجد تعمیر کرنا اسے صاف ستھرا رکھنا اور اس کی زینت کرنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت اور اعلی درجے کی عبادت ہے۔ اسی مناسبت سے یہاں مسجد تعمیر کرنے اور اسے صاف ستھرا رکھنے کے تین فضائل ملاحظہ ہوں ۔ (1)…حضرت ابو قرصافہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’مسجدیں تعمیر کرو اور ان سے کوڑا کرکٹ نکالو پس جس نے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لئے مسجد بنائی اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا اور اس سے کوڑاکرکٹ نکالنا حور عین کے مہر ہیں ۔( معجم الکبیر مسند جندرۃ بن خیشنۃ ۳ / ۱۹ الحدیث: ۲۵۲۱) (2)…حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے مسجد سے اذیت دینے والی چیز (جیسے مٹی کنکر ) نکالی تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔( ابن ماجہ کتاب المساجد والجماعات باب تطہیر المساجد وتطییبہا ۱ / ۴۱۹ الحدیث: ۷۵۷) (3)…حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :ایک عورت مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی اس کا انتقال ہو گیا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اسے دفن کرنے کی اطلاع نہ دی گئی تواپ نے ارشاد فرمایا ’’جب تم میں کسی کا انتقال ہو جائے تو مجھے اطلاع دے دیا کرو پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس عورت پر نماز پڑھی اور فرمایا ’’میں نے اسے جنت میں دیکھا ہے کیونکہ وہ مسجد سے تنکے اٹھایا کرتی تھی(معجم الکبیر عکرمۃ عن ابن عباس ۱۱ / ۱۹۰ الحدیث: ۱۱۶۰۷)۔([1]) مسجد کا متولی کیساہونا چاہئے اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجد کا متولی نیک ادمی ہونا چاہیے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’متولی بننے کے لائق وہ ہے جو دیانت دار کام کرنے والا اور ہوشیار ہو۔ اس پر وقف کی حفاظت اور خیر خواہی کے معاملے میں کافی اطمینان ہو۔ فاسق نہ ہو کہ اس سے نفسانی خواہش یا بے پرواہی یا حفاظت نہ کرنے یا لہو ولعب میں مشغول ہونے کی وجہ سے وقف کو نقصان پہنچانے یاپہنچنے کا اندیشہ ہو۔ بد عقل عاجز یا کاہل نہ ہو کہ اپنی حماقت نادانی کام نہ کر سکنے یا محنت سے بچنے کے باعث وقف کو خراب کردے۔ فاسق اگرچہ کیسا ہی ہوشیار کام کرنے والا اور مالدار ہو ہر گز متولی بننے کے لائق نہیں کہ جب وہ شریعت کی نافرمانی کی پرواہ نہیں رکھتا تو کسی دینی کام میں ا س پر کیا اطمینان ہو سکتا ہے اور اسی وجہ سے یہ حکم ہے کہ وقف کرنے والا اگر خود فسق کرے تو واجب ہے کہ وقف اس کے قبضے سے نکال لیا جائے اور کسی امانت دار اور دیانت دار کو سپرد کیا جائے۔( فتاوی رضویہ ۱۶ / ۵۵۷ملخصا) [1] ۔۔۔مسجد کی صفائی ستھرائی سے متعلق مفید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے رسالے ’’مسجدیں صاف رکھئے‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ مفید ہے۔