Surah Al Muminun Ayat 1 (23:1)
The Believers · Juz 18 · Makki
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ایمان والے کامیاب ہوگئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک مراد کو پہنچے ایمان والے۔
Tafseer (Urdu)
{قد افلح:بیشک کامیاب ہوگئے۔} اس ایت میں ایمان والوں کو بشارت دی گئی ہے کہ بے شک وہ اللہ تعالی کے فضل سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل ہو کر ہر ناپسندیدہ چیز سے نجات پاجائیں گے۔( تفسیرکبیر المومنون تحت الایۃ: ۱ ۸ / ۲۵۸ روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۱ ۶ / ۶۶ ملتقطا) حقیقی کامیابی حاصل کرنے کے لئے ایمان پر خاتمہ ضروری ہے : یاد رہے کہ ہر ایک نے موت کا کڑوا ترین ذائقہ چکھ کر ا س دنیا سے کوچ کرنا ہے اور قیامت کے دن سب کو اپنے اعمال کا بدلہ پانا ہے اور جسے اس دن جہنم کے دردناک عذابات سے بچا لیاگیا اور بے مثل نعمتوں کی جگہ جنت میں داخل کر دیا گیا وہی حقیقی طور پر کامیاب ہے جیسا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’كل نفس ذآىقة الموت-و انما توفون اجوركم یوم القیمة-فمن زحزح عن النار و ادخل الجنة فقد فاز‘‘(ال عمران:۱۸۵) ترجمہ کنزالعرفان:ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اورقیامت کے دن تمہیں تمہارے اجر پورے پورے دئیے جائیں گے توجسے آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ اور جہنم سے بچنے اور جنت میں داخلے کے لئے ایمان پر خاتمہ ضروری ہےجیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کو جہنم سے بچنا اور جنت میں داخل ہونا پسند ہو تو اسے موت ضرور اس حال میں ائے کہ وہ اللہ تعالی اور اخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جس معاملے کو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہو وہی معاملہ دوسروں کے ساتھ کرے۔( مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما ۲ / ۶۲۵ الحدیث: ۶۸۲۱) اور چونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ا س لئے ایمان پر ثابت قدم رہنا اور اس کی حفاظت کی بھرپور کوشش کرنا ضرور ی ہے تاکہ موت کے وقت ایمان سلامت رہے اور قیامت کے دن جنت میں داخلہ نصیب ہو۔ سورہ مومنون کی ابتدائی دس ایات کی فضیلت: سورہ مومنون کی ابتدائی دس ایات کے بارے میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو اپ کے چہرہ اقدس کے پاس مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح اواز سنائی دیتی۔ایک دن وحی نازل ہوئی تو ہم کچھ دیر ٹھہرے رہے جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قبلہ رو ہو کر ہاتھ اٹھائے اور یہ دعا مانگی’’اے اللہ!عزوجل ہمیں زیادہ عطا کرنا اور کمی نہ فرمانا ہمیں عزت دینا اور ذلیل نہ کرناہمیں عطا فرما نااور محروم نہ رکھنا۔ہمیں چن لے اور ہم پر کسی دوسرے کو نہ چن۔اے اللہ! عزوجل ہمیں راضی فرما اور ہم سے راضی ہو جا۔اس کے بعد ارشاد فرمایا’’مجھ پر دس ایات نازل ہوئی ہیں جس نے ان میں مذکور باتوں کو اپنایا وہ جنت میں داخل ہو گاپھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ’’قد افلح المؤمنون‘‘ سے لے کر دسویں ایت کے اخر تک پڑھا۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ المومنین ۵ / ۱۱۷ الحدیث: ۳۱۸۴)