Surah Al Muminun Ayat 24 (23:24)
The Believers · Juz 18 · Makki
فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓىٕكَةً ۚۖ-مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىٕنَا الْاَوَّلِیْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو اس کی قوم کے کافرسرداروں نے کہا:یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم پر بڑا بن جائے اور اگر اللہ چاہتا تو وہ فرشتے اتارتا۔ ہم نے تو یہ اپنے پہلے باپ داداؤں میں نہیں سنی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اس کی قوم کے جن سرداروں نے کفر کیا بولے یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی چاہتا ہے کہ تمہارا بڑا بنے اور اللہ چاہتا تو فرشتے اُتارتا ہم نے تو یہ اپنے اگلے باپ داداؤں میں نہ سنا۔
Tafseer (Urdu)
{فقال: تو کہا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے کافر سرداروں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک ادمی ہے کہ کھاتا اور پیتا ہے یہ چاہتا ہے کہ تم پر بڑا بن جائے اور تمہیں اپنا تابع بنالے اور اگر اللہ عزوجل چاہتا کہ رسول بھیجے اور مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائے تو وہ فرشتے اتاردیتالیکن اس نے ایسا تو نہیں کیا نیز ہم نے تو اپنے پہلے باپ داداؤں میں یہ بات نہیں سنی کہ بشر بھی رسول ہوتا ہے۔ یہ ان کی حماقت کی انتہاء تھی کہ بشر کا رسول ہونا تو تسلیم نہ کیا پتھروں کو خدا مان لیا اور انہوں نے حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کے بارے میں یہ بھی کہا ’’یہ تو صرف ایک ایسا مرد ہے جس پر جنون طاری ہے تو ایک مدت تک انتظار کرلو یہاں تک کہ اس کا جنون دور ہو جائے ایسا ہوا تو خیر ورنہ اس کو قتل کر ڈالنا۔( مدارک المومنون تحت الایۃ: ۲۴-۲۵ ص۷۵۵ ملخصا) {قال: عرض کی۔} جب حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کوان لوگوں کے ایمان لانے اور ا ن کے ہدایت پانے کی امید نہ رہی تو حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی: اے میرے رب! عزوجل میری مدد فرما اور اس قوم کو ہلا ک کر دے کیونکہ انہوں نے مجھے جھٹلایاہے۔( مدارک المومنون تحت الایۃ: ۲۶ ص۷۵۵)