Surah Al Muminun Ayat 3 (23:3)
The Believers · Juz 18 · Makki
وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو فضول بات سے منہ پھیرنے والے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔
Tafseer (Urdu)
{عن اللغو: فضول بات سے۔} فلاح پانے والے مومنوں کا دوسرا وصف بیان کیا گیا کہ وہ ہر لہوو باطل سے بچے رہتے ہیں۔(خازن المومنون تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۳۲۰) لغو سے کیا مراد ہے علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’لغو سے مراد ہر وہ قول فعل اور ناپسندیدہ یا مباح کام ہے جس کا مسلمان کودینی یا دنیوی کوئی فائدہ نہ ہو جیسے مذاق مسخریبیہودہ گفتگوکھیل کودفضول کاموں میں وقت ضائع کرنا شہوات پوری کرنے میں ہی لگے رہنا وغیرہ وہ تمام کام جن سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی اخرت کی بہتری کے لئے نیک اعمال کرنے میں مصروف رہنا چاہئے یا وہ اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے بقدر ضرورت (حلال) مال کمانے کی کوشش میں لگا رہے۔( صاوی المومنون تحت الایۃ: ۳ ۴ / ۱۳۵۶-۱۳۵۷) احادیث میں بھی لا یعنی اور بیکار کاموں سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہےچنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’آدمی کے اسلام کی اچھائی میں سے یہ ہے کہ وہ لایعنی چیز چھوڑ دے۔( ترمذی کتاب الزہد ۱۱-باب ۴ / ۱۴۲ الحدیث: ۲۳۲۴) یعنی جوچیز کار آمد نہ ہو اس میں نہ پڑے زبان دل اور دیگر اعضاء کو بے کار باتوں کی طرف متوجہ نہ کرے۔([1]) اورحضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی نجات کیا ہے ارشاد فرمایا: ’’اپنی زبان پر قابو رکھو اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش رکھے (یعنی بے کار ادھر ادھر نہ جاؤ) اور اپنی خطا پر انسو بہاو۔( ترمذی کتاب الزہد باب ما جاء فی حفظ اللسان ۴ / ۱۸۲ الحدیث: ۲۴۱۴) زبان کی حفاظت کرنے کی ضرورت اور ا س کے فوائد و نقصانات: یاد رہے کہ زبان کی حفاظت و نگہداشت اور فضولیات ولغویات سے اسے باز رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ زیادہ سرکشی اور سب سے زیادہ فساد و نقصان اسی زبان سے رونما ہوتا ہے اور جو شخص زبان کو کھلی چھٹی دے دیتا اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے تو شیطان اسے ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔زبان کی حفاظت کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے نیک اعمال کی حفاظت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص زبان کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ ہر وقت گفتگو میں مصروف رہتا ہے تو ایسا شخص لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہونے سے بچ نہیں پاتا یونہی اس سے کفریہ الفاظ نکل جانے کا بہت اندیشہ رہتا ہے اور یہ دونوں ایسے عمل ہیں جس سے بندے کے نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔منقول ہے کہ حضرت امام حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی شخص نے کہا:فلاں شخص نے اپ کی غیبت کی ہے۔یہ سن کر اپ نے غیبت کرنے والے ادمی کو کھجوروں کا تھال بھر کر روانہ کیا اور ساتھ میں یہ کہلا بھیجا:سنا ہے کہ تم نے مجھے اپنی نیکیاں ہدیہ کی ہیں تو میں نے ان کا معاوضہ دینا بہتر جانا (اس لئے کھجوروں کا یہ تھال حاضر ہے۔)( منہاج العابدین العقبۃ الثالثۃ العائق الرابع الفصل الثالث: اللسان ص۷۶) اوردوسرا فائدہ یہ ہے کہ زبان کی حفاظت کرنے سے انسان دنیا کی افات سے محفوظ رہتا ہے چنانچہ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :زبان سے ایسی بات نہ نکالوجسے سن کر لوگ تمہارے دانت توڑ دیں ۔ اور ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اپنی زبان کو بے لگام نہ چھوڑو تاکہ یہ تمہیں کسی فساد میں مبتلانہ کر دے۔( منہاج العابدین العقبۃ الثالثۃ العائق الرابع الفصل الثالث: اللسان ص۷۶) نیززبان کی حفاظت نہ کرنے کا ایک نقصان یہ ہے کہ بندہ ناجائز و حرام لغو اور بیکار باتوں میں مصروف ہو کر گناہوں میں مبتلا ہوتا اور اپنی زندگی کی قیمتی ترین چیز’’ وقت ‘‘کو ضائع کر دیتا ہے۔ حضرت حسان بن سنان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بارے میں مروی ہے کہ اپ ایک بالا خانے کے پاس سے گزرے تو ا س کے مالک سے دریافت فرمایا ’’یہ بالاخانہ بنائے تمہیں کتناعرصہ گزرا ہے یہ سوال کرنے کے بعداپ کود ل میں سخت ندامت ہوئی اور نفس کو مخاطب کرتے ہوئے یوں فرمایا’’اے مغرورنفس!تو فضول اور لا یعنی سوالات میں قیمتی ترین وقت کو ضائع کرتا ہےپھر ا س فضول سوال کے کفارے میں اپ نے ایک سال روزے رکھے۔( منہاج العابدین العقبۃ الثالثۃ العائق الرابع الفصل الثالث: اللسان ص۷۵) اوردوسرا نقصان یہ ہے کہ ناجائز و حرام گفتگو کی وجہ سے انسان قیامت کے دن جہنم کے دردناک عذاب میں مبتلا ہو سکتا ہے جسے برداشت کرنے کی طاقت کسی میں نہیں ۔ لہذا عافیت اسی میں ہے کہ بندہ اپنی زبان کی حفاظت کرےاور اسے ان باتوں کے لئے استعمال کرے جو اسے دنیا اور اخرت میں نفع دیں ۔ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو زبان کی حفاظت و نگہداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔([2]) [1] …بہار شریعت حصہ شانزدہم زبان کو روکنا اور گالی گلوچ غیبت اور چغلی سے پرہیز کرنا ۳ / ۵۲۰۔ [2] …زبان کی حفاظت اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’جنت کی دو چابیاں ‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں ۔