Surah Al Muminun Ayat 33 (23:33)
The Believers · Juz 18 · Makki
وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۙ-مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْۙ-یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَﭪ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس کی قوم کے وہ سردار بولے جنہوں نے کفرکیااورآخرت کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں خوشحالی عطا فرمائی (بولے:) یہ تو تمہارے جیسا ہی ایک آدمی ہے، جو تم کھاتے ہو اسی میں سے یہ کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے یہ پیتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے اس قوم کے سردار جنہوں نے کفر کیا اور آخرت کی حاضری کو جھٹلایا اور ہم نے انہیں دنیا کی زندگی میں چین دیا کہ یہ تو نہیں مگر تم جیسا آدمی جو تم کھاتے ہو اسی میں سے کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے پیتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و قال: اور بولے۔} یہاں سے حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے کافر سرداروں کے شبہات بیان کئے گئے ہیں ا س ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعوت سن کر ان کی قوم کے وہ سردار جنہوں نے کفرکیااوراخرت کی ملاقات اور وہاں کے ثواب و عذاب وغیرہ کو جھٹلایا حالانکہ اللہ تعالی نے انہیں عیش کی وسعت اور دنیا کی نعمت عطا فرمائی تھی یہ اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں اپنی قوم کے لوگوں سے کہنے لگے ’’یہ تو تمہارے جیسے ہی ایک ادمی ہیں جو تم کھاتے ہو اسی میں سے یہ کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو اسی میں سے یہ پیتا ہے۔ یعنی اگر یہ نبی ہوتے تو فرشتوں کی طرح کھانے پینے سے پاک ہوتے۔ ان باطن کے اندھوں نے کمالات نبوت کو نہ دیکھا اور کھانے پینے کے اوصاف دیکھ کر نبی کو اپنی طرح بشر کہنے لگے اور یہی چیز ان کی گمراہی کی بنیادہوئی چنانچہ اسی سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپس میں کہنے لگے’’اور اگر تم کسی اپنے جیسے آدمی کی بات مان کر اس کی اطاعت کرو گے جب تو تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔( مدارک المومنون تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ص۷۵۷ روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۳۳-۳۴ ۶ / ۸۲ ملتقطا) ایت ’’و قال الملا من قومه‘‘ سے معلوم ہونے والی باتیں : اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)… ہمیشہ مالدار سردار دنیاوی عزت والے زیادہ تر لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے مخالف ہوئے۔ غرباء و مساکین زیادہ مومن ہوئے اب بھی یہی دیکھا جا رہا ہے کہ عموماغریب لوگ ہی دینی کام زیادہ کرتے ہیں ۔ (2)… نبی کو اپنے جیسا بشر کہنا اور ان کے ظاہری کھانے پینے کو دیکھنا باطنی اسرار کو نہ دیکھنا ہمیشہ سے کفار کا کام رہا ہے۔ پہلی بارشیطان نے نبی کو بشر کہا پھر ہمیشہ کفار نے ایساکہا۔ {انكم اذا لخسرون: جب تو تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔} یعنی خدا کی قسم! اگر تم نے اس کے احکاما ت کی پیروی کی تو ا س صورت میں اپنے اپ کوذلت میں ڈال کر تم ضرور خسارہ پانے والے ہوگے۔( روح البیان المومنون تحت الایۃ: ۳۴ ۶ / ۸۲) کافر بہت بڑا بے عقل ہے: اللہ تعالی کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی سے دونوں جہاں میں سعادتیں نصیب ہوتی ہیں لیکن ان بیوقوفوں نے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت میں اپنی ناکامی جبکہ پتھروں کی عبادت میں کامیابی سمجھی اس سے معلوم ہوا کہ کافر بہت بڑا بے عقل ہوتا ہے۔