Surah Al Muminun Ayat 50 (23:50)
The Believers · Juz 18 · Makki
وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ 50
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی بنادیا اور انہیں ایک بلند،رہائش کے قابل اور آنکھوں کے سامنے بہتے پانی والی سرزمین میں ٹھکانہ دیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے کو نشانی کیا اور انہیں ٹھکانا دیا ایک بلند زمین جہاں بسنے کا مقام اور نگاہ کے سامنے بہتا پانی۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلنا: اور ہم نے بنا دیا۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا اور ان کے بیٹے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنی قدرت کی نشانی بنادیا۔حضرت مریم رضی اللہ تعالی عنہا کا نشانی ہونا اس طور پر ہے کہ انہیں کسی مرد نے نہ چھوا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالی نے ان کے پیٹ میں حمل پیدا فرما دیا اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا نشانی ہونا اس طور پر ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں بغیر باپ کے پیدا فرمایاجھولے میں انہیں کلام کرنے کی طاقت دی اور ان کے دست اقدس سے پیدائشی اندھوں اور کوڑھ کے مریضوں کو شفا دی اور مردوں کوزندہ فرمایا۔مزید ارشاد فرمایا کہ ہم نے انہیں ایک بلند ہموار کشادہ اور پھلوں والی جگہ دی جو ان چیزوں کی وجہ سے رہائش کے قابل تھی نیز وہاں انکھوں کے سامنے پانی بہہ رہا تھا جو خوبصورتی کی علامت بھی ہے اور قابل رہائش ہونے کی بھی۔ ایک قول کے مطابق اس سر زمین سے مراد بیت المقدس ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے دمشق یا فلسطین کی سرزمین مراد ہے۔ اس بارے میں اور بھی کئی قول ہیں ۔( تفسیرکبیر المومنون تحت الایۃ : ۵۰ ۸ / ۲۷۹ - ۲۸۰ خازن المومنون تحت الایۃ:۵۰ ۳ / ۳۲۶ مدارک المومنون تحت الایۃ: ۵۰ ص۷۵۸-۷۵۹ ملتقطا)