Surah An Noor Ayat 12 (24:12)
The Light · Juz 18 · Madani
لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ-وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariایسا کیوں نہ ہواکہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک گمان کرتے اور کہتے: یہ کھلا بہتان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سُنا تھا کہ مسلمان مَردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیا ہوتا اور کہتے یہ کھلا بہتان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ لو لا: ایسا کیوں نہ ہوا۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے یہ بہتان سنا تو مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اپنے لوگوں پر نیک گمان کرتے کیونکہ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ وہ مسلمان کے ساتھ نیک گمان کرے کہ بدگمانی ممنوع ہے۔ نیز لوگ سن کرکہتے کہ یہ کھلا بہتان ہے بالکل جھوٹ ہے اوربے حقیقت ہے۔( خازن النور تحت الایۃ: ۱۲ ۳ / ۳۴۳ تفسیرکبیر النور تحت الایۃ: ۱۲ ۸ / ۳۴۱ ملتقطا) صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’بعضے گمراہ بے باک یہ کہہ گزرتے ہیں کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو معاذ اللہ اس معاملہ میں بدگمانی ہوگئی تھی وہ مفتری کذاب (یعنی جھوٹا بہتان لگانے والے) ہیں اور شان رسالت میں ایسا کلمہ کہتے ہیں جو مومنین کے حق میں بھی لائق نہیں ہے۔ اللہ تعالی مومنین سے فرماتا ہے کہ تم نے نیک گمان کیوں نہ کیا تو کیسے ممکن تھا کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بدگمانی کرتے اور حضور (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) کی نسبت بدگمانی کا لفظ کہنا بڑی سیاہ باطنی ہے خاص کر ایسی حالت میں جب کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور(صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم)نے بقسم فرمایا کہ میں جانتا ہوں کہ میرے اہل پاک ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان پر بدگمانی کرنا ناجائز ہے اور جب کسی نیک شخص پر تہمت لگائی جائے تو بغیر ثبوت مسلمان کو اس کی موافقت اور تصدیق کرنا روا نہیں ۔( خزائن العرفان النور تحت الایۃ: ۱۲ ص۶۵۱-۶۵۲) بد گمانی سے بچنے کی ترغیب: قران مجید میں مسلمانوں کو بد گمانی سے بچنے کا حکم دیاگیا ہےچنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم‘‘(حجرات:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنےسے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کثیر احادیث میں بھی بد گمانی سے بچنے اور اچھا گمان رکھنے کافرمایا گیا ہےان میں سے 4احادیث درج ذیل ہیں (1)…حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس نے اپنے بھائی سے بدگمانی کی بے شک اس نے اپنے رب عزوجل سے بدگمانی کی کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے ’’اجتنبوا كثیرا من الظن‘‘ ترجمہ: بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو۔( در منثور الحجرات تحت الایۃ: ۱۲ ۷ / ۵۶۶) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے۔(بخاری کتاب الفراءض باب تعلیم الفرائض ۴ / ۳۱۳ الحدیث: ۶۷۲۴) (3)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حسن ظن عمدہ عبادت ہے۔(ابو داود کتاب الادب باب فی حسن الظن ۴ / ۳۸۷ الحدیث: ۴۹۹۳) (4)…حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :’’تم اپنے بھائی کے منہ سے نکلنے والی کسی بات کا اچھا محمل پاتے ہو تو اس کے بارے میں بد گمانی نہ کرو۔(در منثور الحجرات تحت الایۃ: ۱۲ ۷ / ۵۶۶) اللہ تعالی ہمیں بد گمانی سے بچنے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ اچھا گمان رکھنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔[1] [1] ۔۔۔ بد گمانی سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے کتاب ’’بد گمانی‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں۔