Surah An Noor Ayat 17 (24:17)
The Light · Juz 18 · Madani
یَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖۤ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ دوبارہ کبھی اس طرح کی بات کی طرف نہ لوٹنا اگر تم ایمان والے ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ اب کبھی ایسا نہ کہنا اگر ایمان رکھتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{یعظكم الله: اللہ تمہیں نصیحت فرماتا ہے۔} امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت کا معنی یہ ہے کہ سابقہ ایات میں مذکور کلام سے تمہیں معلوم ہو گیا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگانا کتنا بڑا گناہ ہے اور یہ بھی معلوم ہو گیاکہ اس جرم کی وجہ سے حد لگے گی دنیا میں ذلت و رسوائی اور اخرت میں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالی تمہیں اس کے ذریعے نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم اپنی زندگی میں ا س جیسے عمل کی طرف کبھی بھی نہ لوٹو۔امام رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مزید فرماتے ہیں کہ ا س حکم میں وہ شخص تو داخل ہی ہے جو ایسی بات کہے اور وہ بھی داخل ہیں جو ایسی بات سنے اور اس کا رد نہ کرے۔( تفسیرکبیر النور تحت الایۃ: ۱۷ ۸ / ۳۴۴) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگانا خالص کفر ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ اب جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا پر تہمت لگائے یا ان کی جناب میں تردد میں رہے وہ مومن نہیں کافر ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کا قذف (یعنی ان پر تہمت لگانا) کفر خالص ہے۔( فتاوی رضویہ ۱۴ / ۲۴۵)