Surah An Noor Ayat 16 (24:16)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ مَّا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا ﳓ سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِیْمٌ 16
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اُسے سنا تھا تو تم کہہ دیتے کہ ہمارے لئے جائز نہیں کہ یہ بات کہیں۔(اے اللہ!) تو پاک ہے،یہ بڑا بہتان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیوں نہ ہوا جب تم نے سنا تھا کہا ہوتا کہ ہمیں نہیں پہنچتا کہ ایسی بات کہیں الٰہی پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لو لا: اور کیوں نہ ہوا۔} ارشاد فرمایا کہ جب تم نے بہتان سنا تھا تو اس وقت یہ کیوں نہ ہوا کہ تم کہہ دیتے : ہمارے لئے درست نہیں کہ یہ بہتان والی بات کہیں کیونکہ یہ درست ہوہی نہیں سکتی۔ یہاں ایک مسئلہ ذہن نشین رہے کہ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی کافر تو ہوسکتی ہے لیکن بدکار ہرگز نہیں ہوسکتی کیونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کفار کی طرف مبعوث ہوتے ہیں تو ضروری ہے کہ جو چیز کفار کے نزدیک بھی قابل نفرت ہو اس سے وہ پاک ہوں اور ظاہر ہے کہ عورت کی بدکاری ان کے نزدیک قابل نفرت ہے۔(تفسیرکبیر النور تحت الایۃ: ۱۶ ۸ / ۳۴۳-۳۴۴ مدارک النور تحت الایۃ: ۱۶ ص۷۷۳) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر لگائی گئی تہمت واضح بہتان تھی: اس ایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا پر لگائی گئی تہمت کا بہتان ہونا بالکل ظاہر تھا۔ اسی لئے بہتان نہ کہنے والوں اور توقف کرنے والوں پر عتاب ہوا البتہ چونکہ یہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے گھر کا معاملہ تھا اس لئے اپ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خاموشی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے معاملے کو نہ جاننے کی وجہ سے نہ تھی بلکہ وحی کے انتظار کی وجہ سے تھی کیونکہ اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپنے علم کی بناء پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عصمت کی خبر دیتے تو منافق کہتے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اپنے اہل بیت کی طرف داری کی۔ اسی لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھی خاموش رہے بلکہ خود ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہا نے بھی لوگوں سے نہ کہا کہ میں بے قصور ہوں ۔ حالانکہ انہیں تو اپنی پاکدامنی یقین کے ساتھ معلوم تھی۔