Surah An Noor Ayat 15 (24:15)
The Light · Juz 18 · Madani
اِذْ تَلَقَّوْنَهٗ بِاَلْسِنَتِكُمْ وَ تَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِكُمْ مَّا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَّ تَحْسَبُوْنَهٗ هَیِّنًا ﳓ وَّ هُوَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمٌ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب تم ایسی بات ایک دوسرے سے سن کر اپنی زبانوں پرلاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہتے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا اور تم اسے معمولی سمجھتے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بڑاتھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب تم ایسی بات اپنی زبانوں پر ایک دوسرے سے سن کر لاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ نکالتے تھے جس کا تمہیں علم نہیں اور اسے سہل سمجھتے تھے اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے۔
Tafseer (Urdu)
{اذ تلقونه بالسنتكم: جب تم اس کو ایک دوسرے سے سن کر اپنی زبانوں پرلاتے تھے۔} ارشاد فرمایا کہ یہ بڑا عذاب اس وقت پہنچ جاتا جب تم اس بہتان کو ایک دوسرے سے سن کر اپنی زبانوں پرلاتے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات کہتے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا اور تم اسے ہلکا سا معاملہ سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اس میں بڑا گناہ نہیں حالانکہ وہ اللہ تعالی کے نزدیک جرم عظیم تھا۔( روح البیان النور تحت الایۃ: ۱۵ ۶ / ۱۲۷ مدارک النور تحت الایۃ: ۱۵ ص۷۷۳ ملتقطا) سب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم عادل ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے گناہ اور معصیت صادر ہوئی مگر وہ اس پر قائم نہ ہوئے بلکہ انہیں توبہ کی توفیق ملی لہذا یہ درست ہے کہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم عادل ہیں ۔ اللہ تعالی نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: ’’و كلا وعد الله الحسنى‘‘(حدید:۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: اور ان سب سے اللہ نے سب سے اچھی چیز (جنت) کا وعدہ فرمالیا ہے۔ اور فرماتا ہے: ’’رضی الله عنهم و رضوا عنه‘‘( توبہ:۱۰۰) ترجمہ کنزالعرفان: ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں ۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ اللہ تعالی فاسق سے راضی نہیں ہوتا اورنہ اس سے جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔