Surah An Noor Ayat 28 (24:28)
The Light · Juz 18 · Madani
فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْۚ-وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر اگرتم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤتو بھی ان میں داخل نہ ہو ناجب تک تمہیں اجازت نہ دیدی جائے اور اگر تمہیں کہا جائے ’’واپس لوٹ جاؤ ‘‘تو تم واپس لوٹ جاؤ،یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ جب بھی بے ما لکوں کی اجازت کے ان میں نہ جاؤ اور اگر تم سے کہا جائے واپس جاؤ تو واپس ہو یہ تمہارے لیے بہت ستھرا ہے اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فان لم تجدوا فیها احدا: پھر اگرتم ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ۔} یعنی اگرمکان میں اجازت دینے والا موجود نہ ہو تو بھی ان میں داخل نہ ہو ناجب تک تمہیں اجازت نہ دیدی جائے کیونکہ غیر کی ملک میں تصرف کرنے کے لئے اس کی رضا مندی ضروری ہے۔ اور اگر مکان میں اجازت دینے والا موجود ہو اور وہ تمہیں کہے کہ ’’واپس لوٹ جاؤ ‘‘تو تم واپس لوٹ جاو اور اجازت طلب کرنے میں اصرار اور منت سماجت نہ کرو۔ کسی کا دروازہ بجانے سے متعلق دو اہم باتیں : جب بھی کسی کے گھر جائیں تودروازہ بجانے سے پہلے دو باتوں کا ضرور لحاظ رکھیں ۔ (1)… کسی کا دروازہ بہت زور سے کھٹ کھٹانا اور شدید آواز سے چیخنا خاص کر علماء اور بزرگوں کے دروازوں پر ایساکرنا اوران کو زور سے پکارنا مکرو ہ و خلاف ادب ہے۔(مدارک النور تحت الایۃ: ۲۸ ص۷۷۶) لہذا درمیانے انداز میں دروازہ بجائیں اور اواز دینے کی ضرورت ہو تو درمیانی اواز سے پکاریں یونہی جس کے گھر پہ بیل لگی ہو تو ایسا نہ کریں کہ بٹن پر ہاتھ رکھ کر ہی کھڑے ہو جائیں اور جب تک دروازہ کھل نہ جائے اس سے ہاتھ نہ ہٹائیں بلکہ ایک بار بٹن دباکر کچھ دیر انتظار کریں اگر دروازہ نہ کھلے تو دوبارہ بجا لیں کچھ دیر انتظار کے بعد پھر بجا لیں اگر تیسری بار بجانے کے بعد بھی جواب نہ ملے تو کسی شدید مجبوری اور ضرورت کے بغیر چوتھی بار نہ بجائیں بلکہ واپس چلے جائیں اور کسی دوسرے وقت میں ملاقات کر لیں ۔نیز یہاں یہ بھی یاد رہے کہ تین مرتبہ تک دروازہ بجانے یا گھنٹی بجانے کی اجازت ہے کوئی واجب نہیں لہذا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دو یا ایک مرتبہ دروازہ بجانے پر اگر کوئی دروازہ نہ کھولے تو واپس چلے جائیں ۔ (2)… جب کسی کا دروازہ بجائیں اور اندر سے پوچھا جائے کہ کون ہے تو ا س کے جواب میں یہ نہ کہیں کہ میں ہوں بلکہ اپنا نام بتائیں تاکہ پوچھنے والا اپ کو پہچان سکے۔حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے قرض کے سلسلے میں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تومیں نے دروازہ بجایا۔ اپ نے پوچھا: کون ہےمیں نے عرض کی:میں ہوں ۔اپ نے ارشاد فرمایا: ’’میں میں ۔‘‘ (یعنی میں تو میں بھی ہوں ) گویا اپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا۔(بخاری کتاب الاستئذان باب ما اذا قال: من ذا فقال: انا ۴ / ۱۷۱ الحدیث: ۶۲۵۰) نوٹ:مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت جلد3 حصہ16 سے ’’مکان میں جانے کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔ {هو ازكى لكم: یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔} یعنی اجازت نہ ملنے کی صورت میں تمہارا لوٹ جانا تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ کام ہے کیونکہ بعض اوقات لوگ ا س حال میں ہوتے ہیں کہ ا س وقت وہ کسی کا اپنے پاس انا پسند نہیں کرتے۔(خازن النور تحت الایۃ: ۲۸ ۳ / ۳۴۷) دین اسلام کا وصف: مذکورہ بالا ایات کریمہ سے معلوم ہوا کہ اسلام نے ہمیں زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اپنی تعلیمات سے نوازا ہے اور زندگی کے اداب سکھائے ہیں نیز دوسروں کی سہولت کا خیال رکھنا بھی سکھایا ہے۔