Surah An Noor Ayat 3 (24:3)
The Light · Juz 18 · Madani
اَلزَّانِیْ لَا یَنْكِحُ اِلَّا زَانِیَةً اَوْ مُشْرِكَةً٘-وَّ الزَّانِیَةُ لَا یَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌۚ-وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariزنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے گااور یہ ایمان والوں پر حرام ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے۔
Tafseer (Urdu)
{الزانی لا ینكح الا زانیة او مشركة: زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ زنا کرنے والامرد بدکار عورت یا مشرکہ سے ہی نکاح کرنا پسندکرے گااور بدکار عورت سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرنا پسندکرے گا کیونکہ خبیث کا میلان خبیث ہی کی طرف ہوتا ہے نیکوں کو خبیثوں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ اس ایت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ فاسق وفاجر شخص نیک اور پارسا عورت سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتا بلکہ وہ اپنے جیسی فاسقہ فاجرہ عورت سے نکاح کرنا پسند کرتا ہے اسی طرح فاسقہ فاجرہ عورت نیک اور پارسا مرد سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنے جیسے فاسق وفاجر مرد سے ہی نکاح کرنا پسند کرتی ہے۔شان نزول:اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ مہاجرین میں سے بعض بالکل نادار تھے نہ ان کے پاس کچھ مال تھا نہ ان کا کوئی عزیز قریب تھا اور بدکار مشرکہ عورتیں دولت مند اور مالدار تھیں یہ دیکھ کر کسی مہاجر کو خیال آیا کہ اگر ان سے نکاح کرلیا جائے تو ان کی دولت کام میں آئے گی۔سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے انہوں نے اس کی اجازت چاہی تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور انہیں اس سے روک دیا گیا۔( خازن النور تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۳۳۵) {و حرم: اور حرام ہے۔} یعنی بدکاروں سے نکاح کرنا ایمان والوں پر حرام ہے۔ یاد رہے کہ ابتدائے اسلام میں زانیہ عورت سے نکاح کرنا حرام تھا بعد میں اس آیت ’’و انكحوا الایامى منكم‘‘( ترجمہکنزالعرفان: اور تم میں سے جو بغیر نکاح کے ہوں ان کے نکاح کردو۔)( النور:۳۲) سے یہ حکم منسوخ ہوگیا۔( مدارک النور تحت الایۃ: ۳ ص۷۶۹) بد عقیدہ اور بد کردار لوگوں کا ساتھی بننے اور بنانے سے بچیں : اس ایت سے معلوم ہوا کہ بد عقیدہ اور بری عادات و کردار والے لوگوں کا ساتھی بننے اورانہیں اپنا ساتھی بنانے سے بچنا چاہئے اور درست عقائد رکھنے والے نیک و پارسا لوگوں کا ساتھی بننا اور انہیں اپنا ساتھی بنانا چاہئے کیونکہ ایک طبیعت دوسری طبیعت سے اثر لیتی ہے اور ایک دوسرے سے تعلقات اپنا اثر دکھاتے ہیں اور بری عادات بہت جلد بندے میں سرایت کر جاتی ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’بنی اسرائیل میں پہلی خرابی جوآئی وہ یہ تھی کہ ان میں سے ایک ادمی جب دوسرے ادمی سے ملتا تو اس سے کہتا: اے شخص! اللہ تعالی سے ڈرو اور جو برا کام تم کرتے ہو ا سے چھوڑ دو کیونکہ یہ تیرے لئے جائز نہیں ہے۔ پھر جب دوسرے دن اس سے ملتا تو اسے منع نہ کرتا کیونکہ وہ کھانے پینے اور بیٹھنے میں ا س کاشریک ہو جاتاتھا۔جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالی نے ان کے اچھے دلوں کو برے دلوں سے ملا دیا (اور نیک لوگ بروں کی صحبت میں بیٹھنے کی نحوست سے انہی جیسے ہوگئے۔)( ابو داود اول کتاب الملاحم باب الامر والنہی ۴ / ۱۶۲ الحدیث: ۴۳۳۶) اورجتنے قریبی ساتھی شوہر اور بیوی ہوتے ہیں اتنے کوئی اور نہیں ہوتے اور ان میں سے کوئی ایک بد عقیدہ یا بد کردار ہو تو اس کے اثرات اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ بندہ اپنے دین و ایمان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتا ہےجیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ غیرمذہب والیوں کی صحبت آگ ہے ذی علم عاقل بالغ مردوں کے مذہب اس میں بگڑگئے ہیں عمران بن حطان رقاشی کاقصہ مشہورہے یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا خارجی مذہب کی عورت کی صحبت میں معاذ اللہ خود خارجی ہوگیا اور یہ دعوی کیاتھا کہ اسے سنی کرنا چاہتا ہے۔( فتاوی رضویہ ۲۳ / ۶۹۲) لہذا جسے اپنے دین و ایمان کی ذرا سی بھی فکر ہے اسے چاہئے کہ وہ بد مذہب مرد یا عورت سے ہر گز ہر گز شادی نہ کرےیونہی برے کردار والے مرد یا عورت سے شادی کرنے سے بھی بچے بلکہ درست عقائداچھے کردار اور نیک و پارسا مرد یا عورت سے شادی کی جائے تاکہ دنیا بھی سنور جائے اور اخرت بھی برباد نہ ہو