Surah An Noor Ayat 4 (24:4)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَهَادَةً اَبَدًاۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جو پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ لائیں تو انہیں اَسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جو پارسا عورتوں کو عیب لگائیں پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں تو انہیں اسّی کوڑے لگاؤ اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو اور وہی فاسق ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین یرمون المحصنت: اور جو پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں ۔} اس ایت مبارکہ میں پاکدامن اجنبی عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے والوں کی سزا کا بیان ہے۔ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ ایسے نہ لائیں جنہوں نے ان کے زنا کا معائنہ کیا ہوتو ان میں سے ہر ایک کو اسی کوڑے لگاؤ اور کسی چیز میں ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور کبیرہ گناہ کے مرتکب ہونے کی وجہ سے وہی فاسق ہیں ۔( جلالین النور تحت الایۃ: ۴ ص۲۹۴) پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگانے کی سزا سے متعلق چند شرعی مسائل: یہاں ایت میں بیان کی گئی سزا سے متعلق چند شرعی مسائل ملاحظہ ہوں (1)… جو شخص کسی پارسا مرد یا عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور اس پر چار معائنہ کے گواہ پیش نہ کر سکے تو اس پر 80کوڑوں کی حد واجب ہوجاتی ہے۔ آیت میں محصناتکا لفظ (یعنی صرف عورتوں پر تہمت لگانے کا بیان) مخصوص واقعہ کے سبب سے وارد ہوا یا اس لئے کہ عورتوں کو تہمت لگانا بکثرت واقع ہوتا ہے۔ (2)… ایسے لوگ جو زنا کی تہمت میں سزا یاب ہوں اور ان پر حد جاری ہوچکی ہو وہ مردود الشہادۃ ہوجاتے ہیں یعنی ان کی گواہی کبھی مقبول نہیں ہوتی۔ پارسا سے مراد وہ ہیں جو مسلمان مکلف آزاد اور زنا سے پاک ہوں ۔ (3)… زنا کی گواہی کا نصاب چار گواہ ہیں ۔ (4)… حد قذف یعنی زنا کی تہمت لگانے کی سزامطالبہ پر مشروط ہے جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ مطالبہ نہ کرے تو قاضی پر حد قائم کرنا لازم نہیں ۔ (5) …جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ زندہ ہو تو مطالبہ کا حق اسی کو ہے اور اگر مر گیا ہو تو اس کے بیٹے پوتے کو بھی ہے۔ (6)… غلام اپنے مولی کے خلاف اور بیٹا باپ کے خلاف قذف یعنی اپنی ماں پر زنا کی تہمت لگانے کا دعوی نہیں کرسکتا۔ (7)…قذف کے الفاظ یہ ہیں کہ وہ صراحتا کسی کو اے زانی کہے یا یہ کہے کہ تو اپنے باپ سے نہیں ہے یا اس کے باپ کا نام لے کر کہے کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے یا اس کو زانیہ کا بیٹا کہہ کر پکارے جبکہ اس کی ماں پارسا ہوتو ایسا شخص قاذف یعنی زنا کی تہمت لگانے والاہوجائے گا اور اس پر تہمت کی حد لازم آئے گی۔ (8)… اگر غیرمحصن کو زنا کی تہمت لگائی مثلا کسی غلام کو یا کافر کو یا ایسے شخص کو جس کا کبھی زنا کرنا ثابت ہو تو اس پر حد قذف قائم نہ ہوگی بلکہ اس پر تعزیر واجب ہوگی اور یہ تعزیر 3سے 39کوڑے تک جتنے شرعی حاکم تجویز کرے اتنے کوڑے لگانا ہے اسی طرح اگر کسی شخص نے زنا کے سوا اور کسی گناہ کی تہمت لگائی اور پارسا مسلمان کو اے فاسق اے کافر اے خبیث اے چور اے بدکار اے مخنث اے بددیانت اے لوطی اے زندیق اے دیوث اے شرابی اے سود خوار اے بدکار عورت کے بچے اے حرام زادے اس قسم کے الفاظ کہے تو بھی اس پر تعزیر واجب ہوگی۔ نوٹ:حد قذف سے متعلق مسائل کی تفصیلی معلومات کے لئے بہار شریعت جلد2حصہ9سے ’’قذف کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔ {الا الذین تابوا من بعد ذلك: مگر جو اس کے بعد توبہ کرلیں ۔} یعنی تہمت لگانے والا اگر سزا پا نے کے بعد توبہ کرلے اور اپنے احوال و افعال کو درست کرلے تو اب وہ فاسق نہ رہے گا۔(ابو سعود النور تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۷۱ ملخصا) یاد رہے کہ توبہ کے بعد بھی تہمت لگانے والے کی گواہی قبول نہ ہو گی کیونکہ گواہی سے متعلق مطلقاارشاد ہو چکا ہے کہ ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔