Surah An Noor Ayat 48 (24:48)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ 48
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو اسی وقت ان میں سے ایک فریق منہ پھیر نے لگتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب بلائے جائیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف کہ رسول ان میں فیصلہ فرمائے تو جبھی ان کا ایک فریق منہ پھیر جاتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا دعوا الى الله و رسوله: اور جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ بشر نامی منافق کازمین کے معاملے میں ایک یہودی سے جھگڑا تھا یہودی جانتا تھا کہ اس معاملہ میں وہ سچا ہے اور اس کو یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حق و عدل کا فیصلہ فرماتے ہیں اس لئے اس نے خواہش کی کہ ا س مقدمے کا فیصلہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کرایا جائے۔ لیکن منافق بھی جانتا تھا کہ وہ باطل پر ہے اورسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم عدل و انصاف میں کسی کی رو رعایت نہیں فرماتے اس لئے وہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے فیصلہ پر تو راضی نہ ہوا اور کعب بن اشرف یہودی سے فیصلہ کرانے کااصرار کیا اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں کہنے لگا کہ وہ ہم پر ظلم کریں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔( مدارک النور تحت الایۃ: ۴۸ ص۷۸۶) ایت ’’و اذا دعوا الى الله و رسوله‘‘ سے معلوم ہونے والے امور: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)…حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اللہ تعالی کی بارگاہ ہے اور ان کے ہاں حاضری اللہ تعالی کے حضور حاضری ہے کیونکہ ان لوگوں کو حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف بلایا گیاتھا جسے اللہ تعالی نے فرمایا اللہ و رسول کی طرف بلایا گیا۔ (2)… حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا حکم اللہ تعالی کا حکم ہے جس کے خلاف اپیل ناممکن ہے اورحضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم سے منہ موڑنا رب تعالی کے حکم سے منہ موڑنا ہے۔