Surah An Noor Ayat 53 (24:53)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىٕنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّؕ-قُلْ لَّا تُقْسِمُوْاۚ-طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورانہوں نے پوری کوشش سے اللہ کی قسمیں کھائیں کہ اگر آپ انہیں حکم دو گے تو وہ ضرور نکلیں گے۔ تم فرماؤ : قسمیں نہ کھاؤ، شریعت کے مطابق اطاعت ہونی چاہیے، بیشک اللہ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اگر تم انہیں حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کو نکلیں گے تم فرما دو قسمیں نہ کھاؤ مُوَافِقِ شرع حکم برداری چاہیے، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔
Tafseer (Urdu)
{و اقسموا بالله جهد ایمانهم: او رانہوں نے پوری کوشش کرکے اللہ کی قسمیں کھائیں ۔} اس ایت سے دوبارہ منافقین کا تذکرہ شروع کیا گیا۔ جب اللہ تعالی نے یہ بیان فرمایا کہ منافقین رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے احکام کو پسند نہیں کرتے تو منافقین حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہنے لگے: اللہ عزوجل کی قسم!اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں حکم دیں کہ ہم اپنے گھروں سے اپنے مالوں اور اپنی عورتوں کے پاس سے نکل جائیں تو ہم ضرور نکل جائیں گے اور اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں جہاد کرنے کا حکم دیں تو ہم جہاد کریں گےجب ہمارا یہ حال ہے تو ہم اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے حکم سے کیسے راضی نہ ہوں گے۔ اس پر اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان سے فرمائیں کہ تم قسمیں نہ کھاؤ تمہیں اس کی بجائے شریعت کے مطابق اطاعت کرنی چاہیے بیشک اللہ تعالی تمہارے تمام پوشیدہ اعمال سے خبردار ہےوہ تمہیں ضرور رسوا کرے گا اور تمہاری منافقت کی سزا دے گا۔( تفسیرکبیر النور تحت الایۃ: ۵۳ ۸ / ۴۱۱-۴۱۲ خازن النور تحت الایۃ: ۵۳ ۳ / ۳۵۹ ملتقطا) اس ایت سے معلوم ہوا کہ اپنے قول کو اپنے عمل سے سچا کرکے دکھانا چاہیے صرف قسموں سے سچا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ بارگاہ خداوندی میں عمل دیکھے جاتے ہیں نہ کہ محض زبانی دعوے۔