Surah An Noor Ayat 6 (24:6)
The Light · Juz 18 · Madani
وَ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَآءُ اِلَّاۤ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۭ بِاللّٰهِۙ-اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے علاوہ گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ چار بار گواہی دے کہ بیشک وہ سچا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہ جو اپنی عورتوں کو عیب لگائیں اور ان کے پاس اپنے بیان کے سوا گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ چار بار گواہی دے اللہ کے نام سے کہ وہ سچا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الذین یرمون ازواجهم: اور وہ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں ۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے اجنبی عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے کے احکام بیان فرمائے جبکہ اس ایت اور ا س کے بعد والی چند ایات میں بیویوں پر زنا کی تہمت لگانے کے احکام بیان فرمائے ہیں ۔( تفسیرکبیر النور تحت الایۃ: ۶ ۸ / ۳۳۰) شان نزول:حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’گواہ لاو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کوئی شخص اپنی عورت پر کسی مرد کو دیکھے تو گواہ ڈھونڈنے جائے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ پھر انہوں نے کہا: قسم ہے اس کی جس نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! بیشک میں سچا ہوں اور خدا کوئی ایسا حکم نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچادے۔ اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام اترے اور یہ ایتیں نازل ہوئیں۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ النور باب و یدرا عنہا العذاب ان تشہد اربع شہادات ۔۔۔ الخ ۳ / ۲۸۰ الحدیث: ۴۷۴۷) بیوی پر زنا کی تہمت لگانے کے شرعی حکم کا خلاصہ: ان ایات میں بیوی پر زنا کی تہمت لگانے کا جو حکم بیان ہوا اسے شریعت کی اصطلاح میں ’’لعان‘‘ کہتے ہیں ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب مرد اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اگرمرد و عورت دونوں گواہی دینے کی اہلیت رکھتے ہوں اور عورت اس پر مطالبہ کرے تو مرد پر لعان واجب ہوجاتا ہے اگر وہ لعان سے انکار کردے تو اسے اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب تک وہ لعان کرے یا اپنے جھوٹ کا اقرار کر لے۔ ا گر جھوٹ کا اقرار کرے تو اس کو حد قذف لگائی جائے گی جس کا بیان اوپر گزر چکا ہے اور اگر لعان کرنا چاہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اسے چار مرتبہ اللہ عزوجل کی قسم کے ساتھ کہنا ہوگا کہ وہ اس عورت پر زنا کا الزام لگانے میں سچا ہے اور پانچویں مرتبہ کہنا ہوگا کہ اللہ عزوجل کی مجھ پرلعنت ہو اگر میں یہ الزام لگانے میں جھوٹا ہوں ۔ اتنا کرنے کے بعد مرد پر سے حد قذف ساقط ہوجائے گی اور عورت پر لعان واجب ہوگا۔ وہ انکار کرے گی تو قید کی جائے گی یہاں تک کہ لعان منظور کرے یا شوہر کے الزام لگانے کی تصدیق کرے۔ اگر تصدیق کی تو عورت پر زنا کی حد لگائی جائے گی اور اگر لعان کرنا چاہے تو اسے بھی چار مرتبہ اللہ عزوجل کی قسم کے ساتھ کہنا ہوگا کہ مرد اس پر زنا کی تہمت لگانے میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہنا ہوگا کہ اگر مرد اس الزام لگانے میں سچا ہو تو مجھ پر خدا عزوجل کا غضب ہو۔ اتنا کہنے کے بعد عورت سے زنا کی حد ساقط ہوجائے گی اور لعان کے بعد قاضی کے جدائی کروا دینے سے میاں بیوی میں جدائی واقع ہوگی بغیر قاضی کے نہیں اور یہ جدائی طلاق بائنہ ہوگی۔ اور اگر مرد گواہی دینے کی اہلیت رکھنے والوں میں سے نہ ہو مثلا غلام ہو یا کافر ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو تو لعان نہ ہوگا اور تہمت لگانے سے مرد پر حد قذف لگائی جائے گی اور اگر مرد گواہی کی اہلیت رکھنے والوں میں سے ہو اور عورت میں یہ اہلیت نہ ہو اس طرح کہ وہ باندی ہو یا کافرہ ہو یا اس پر قذف کی حد لگ چکی ہو یا بچی ہو یا مجنونہ ہو یا زانیہ ہو اس صورت میں نہ مرد پر حد ہوگی اور نہ لعان۔ نوٹ: لعان سے متعلق مزید مسائل کی معلومات کے لئے بہار شریعت جلد2 حصہ8سے ’’لعان کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔ {و لو لا فضل الله علیكم و رحمته: اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی۔} یعنی اے تہمت لگانے والے مردو اور تہمت لگائی گئی عورتو! اگر تم پر اللہ تعالی کا فضل اور ا س کی رحمت نہ ہوتی اور اللہ تعالی بہت توبہ قبول فرمانے والا اور اپنے تمام افعال و احکام میں حکمت والا نہ ہوتا تو وہ تمہارے راز کھول دیتا اور اس کے بعد تمہارا حال بیان سے باہر ہوتا۔( روح البیان النور تحت الایۃ: ۱۰ ۶ / ۱۲۱)